جسٹس ناصر الملک پاکستان کے نئے چیف جسٹس نامزد

حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوگی اور صدر ممنون حسین نامزد ہونے والے نئے چیف جسٹس سے حلف لیں گے
،تصویر کا کیپشنحلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوگی اور صدر ممنون حسین نامزد ہونے والے نئے چیف جسٹس سے حلف لیں گے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک کی عدالتِ عظمیٰ کے جسٹس ناصر الملک کو پاکستان کا نیا چیف جسٹس تعینات کر دیا ہے اور اس بارے میں وزارتِ قانون کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی پانچ جولائی کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے جبکہ جسٹس ناصر الملک چھ جولائی کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے۔

تصدق حسین جیلانی کی ریٹائرمنٹ سے متعلق فل کورٹ ریفرنس چار جولائی کو ہوگا۔ سپریم کورٹ کے شعبۂ تعلقات عامہ نے بھی اس نوٹیفکیشن کی تصدیق کی ہے۔

حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوگی اور صدر ممنون حسین نامزد ہونے والے نئے چیف جسٹس سے حلف لیں گے اور حلف اُٹھانے کے بعد جسٹس ناصر الملک ملک کے 22 ویں چیف جسٹس ہوں گے۔

نامزد ہونے والے نئے چیف جسٹس 17 اگست سنہ 1950 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے سوات میں پیدا ہوئے۔ سنہ 1993 میں اُنھیں صوبہ خیبر پختونخوا کا ایڈووکیٹ جنرل تعینات کیا گیا اور سنہ 1994 میں اُنھیں پشاور ہائی کورٹ کا جج بنا دیا گیا۔ جسٹس ناصر الملک کو سنہ 2004 میں پشاور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا جبکہ ایک سال کے بعد اُنھیں سپریم کورٹ کا جج تعینات کر دیا گیا۔

جسٹس ناصر الملک سپریم کورٹ کے اُن ججوں میں شامل ہیں جنھیں سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گھروں میں نظر بند کر دیا تھا تاہم اُنھوں نے سنہ 2008 میں ملک میں عام انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں اُس وقت کے چیف جسسٹس عبدالحمید ڈوگر سے دوبارہ اپنے عہدے کا حلف لیا تھا۔

پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے بھی جسٹس ناصر الملک کے ساتھ ہی اپنے عہدے کا دوبارہ حلف لیا تھا۔ جسٹس ناصر الملک اس بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ جسٹس ناصر الملک نے اس سات رکنی بیچ کی بھی سربراہی کی تھی جس نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو 26 اپریل 2012 میں اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر توہین عدالت کے مقدمے میں مجرم قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد یوسف رضا گیلانی کو اپنے عہدے سے الگ ہونا پڑا تھا۔

جسٹس ناصر الملک قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بھی ہیں جبکہ اس کے علاوہ فیڈرل ریویو بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ بھی اُن کے پاس ہے۔ جسٹس ناصر الملک کا چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 15 ہو جائے گی۔

جسٹس ناصر الملک کے عہدہ سنبھالنے کے بعد جسٹس جواد ایس خواجہ سپریم کورٹ کے ججوں کی سینیارٹی میں چیف جسٹس کے بعد دوسرے نمبر پر ہوں گے اور اس بات کا امکان ہے کہ جسٹس جواد ایس خواجہ مستقل چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی تک قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔