’پاکستان اور چین کے معاہدوں کی نگرانی کی جائے گی‘

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, ارم عباسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ چینی صدر کے دورۂ پاکستان کے دوران طے ہونے والے معاہدوں پر جلد از جلد عمل کرنے کے لیے ایک لائحۂ عمل تیار کیا گیا ہے۔
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے انھوں نے کہا: ’چینی صدر کے دورے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں یہ طے پایا ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدوں پر ہونے والے کام کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔‘
اس سوال پر کہ چینی صدر کے دورۂ پاکستان کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر بھارت کو تشویش ہے، دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کسی ملک کو دو ممالک کے تعلقات کو ویٹو کرنے کا اختیار نہیں۔
تسنیم اسلم نے بھارتی ردعمل پر مبنی میڈیا رپورٹوں پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
دفترِ خارجہ کی ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں ملک کی فوجی اور سول قیادت پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا وفد یمن کے تنازع پر مشاورت کرنے کے لیے سعودی عرب گیا ہے۔
تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان یمن کے مسئلے کا سیاسی حل چاہتا ہے اور اس سلسلے میں ملک کی پارلیمان کا جو موقف ہے وہی حکومت کا موقف ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP SPA
دفترِ خارجہ کی ترجمان نے بتایا کہ بھارتی میڈیا کے توسط سے معلوم ہوا ہے کہ بھارتی حکام نے ایک پاکستانی کشتی کو پکڑا ہے اور اس حوالے سے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے ہندوستانی حکام سے رابطہ کیا ہے، تاہم انھوں نے تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ دنوں بھارتی میڈیا پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہندوستانی حکام نے ہیروئن اسمگل کرتے ہوئے ایک پاکستانی کشتی کو پکڑا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان سے پوچھا گیا کہ بلوچستان میں 20 مزدوروں کی ہلاکت کے بعد پاکستان کی جانب سے بھارت کو لکھے جانے والے خط کی کیا تفصیلات کیا ہیں؟ اس کے جواب میں دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا: ’مزدوروں کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا جس میں ایسےافراد گرفتار کیے گئے جنھوں نے مخصوص اور اہم معلومات دی ہیں لیکن خط کے متعلق میرے پاس کوئی تفصیلات نہیں۔‘
کمشیر میں ہلاکتوں کے معاملے پر تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر میں بے گناہ افراد کے قتل کی مذمت کرتا ہے۔
افغانستان سے متعلق ایک سوال پر تسنیم اسلم نے کہا پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے اور چین کے ساتھ مل کر خطے میں امن اور مستحکم قائم کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔
ایرانی سرحد پر فائرنگ کے واقعات سے متعلق ترجمان کا کہنا تھا انھیں ایران کی سرحد کے اندر ہونے والے مخصوص واقعے کے بارے میں نہیں معلوم تاہم پاکستان اور ایران سرحدوں پر سیکورٹی کے لیے تعاون مضبوط بنانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔



















