پارلیمان، خیبر حکومت اور حزبِ اختلاف کا احتجاج

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
وزیرِ اعلی صوبہ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی قیادت میں صوبائی حکومت اور حزب اختلاف نے اسلام آباد میں منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پن بجلی کے بقایاجات اور چین کی مدد سے راہداری کے منصوبے کے روٹ میں تبدیلی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے مظاہرین کی قیادت سے مذاکرات کیے اور انہیں ایک ہفتے کے اندر متعلقہ وزراء اور سرکاری اہلکاروں کے ساتھ اجلاس میں بات کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اس یقین دہانی کے بعد وزیر اعلٰی نے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔
صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور وفاق کے پانی اور بجلی کے ادارے واپڈا کے درمیان پن بجلی کی پیدوار، نرخ اور رائلٹی پر تنازعہ کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے۔
صوبے کو شکایت ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ پن بجلی پیدا کرنے والے صوبے کو سب سے کم اور مہنگی بجلی فراہم کی جاتی ہے جبکہ رائلٹی کے اربوں روپے کے بقایاجات بھی ادا نہیں کئے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب مرکز اور واپڈا کو شکایت ہے کہ صوبے میں بجلی کی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی ان کے لیے مشکلات کا باعث ہیں۔
درحقیقت احتجاج بجلی کے تکنیکی اور معاشی مسئلے پر تھا لیکن شاید اسے سیاسی رنگ دینے کے لیے اس میں چین کی مدد سے تعمیر کیے جانے والی اقتصادی راہداری کو بھی شامل کیا گیا۔ صوبائی وزیر شاہ فرمان نے اپنی شکایت اور وجہ احتجاج بی بی سی کو کچھ یوں بیان کی کہ مرکز نہ انہیں اپنے حصہ کا پانی، نہ بجلی اور نہ ہی قدرتی گیس حاصل کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے دے رہا ہے۔
دیگر چھوٹے صوبوں کو بھی شکایات ہیں کہ اگر اس پر توجہ نہیں دی جاتی تو اس کے وفاق کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی جیسی حزب اختلاف کی جماعت نے بھی اس احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبائی اسمبلی کے اراکین نے اسلام آباد میں بارش کے باوجود پارلیمان کے سامنے حقوق کے حق میں نعرہ بازی بھی کی۔
حکومت سے مذاکرات کے بعد وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا نے میڈیا کو بتایا کے ان کے بنیادی طور پر تین مطالبات تھے ’صوبے میں لوڈشیڈنگ اور بجلی کے نظام کی بہتری، دوسرا چین کے ساتھ معاشی راہداری کا منصوبہ اور تیسرا پن بجلی کے بقایاجات ہیں۔
’یہ ہم نے تحریری طور پر وفاقی وزیر کو دے دیے ہیں۔ جمعہ کو انھوں نے واپڈا حکام کے ساتھ اجلاس طے کیا ہے جبکہ باقی مطالبات پر ایک ہفتے کے اندر دوبارہ بات کرنے کی یقی دہانی کروائی ہے‘۔
اس موقع پر خواجہ آصف نے بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے پارلیمانی رہنماؤں کو راہداری پر اعتماد میں لینے کے لیے بدھ کو اجلاس طلب کیا ہے جس سے اس سے متعلق تحفظات دور ہو جائیں گے۔



















