جہاں اہم شخصیات کا گزر نہیں، وہاں صفائی بھی نہیں

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں روزانہ کوئی ایک ہزر ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے شہر کی صفائی ایک مشکل عمل رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں شہر کے بعض علاقوں میں صفائی کرنے والا عملہ اہم شاہراہوں پر نظر آتا ہے لیکن گلی کوچے اور محلے اب بھی نظر انداز ہیں۔
نکاسی اور فراہمی آب کی نجی کمپنی اب کچرے سے توانائی پیدا کرنے کےمنصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے پشاور میں صفائی کی ذمہ داری گذشتہ سال ستمبر میں ایک نجی کمپنی ڈبلیو ایس ایس پی کے حوالے کی تھی۔ جس کے بعد شہر میں صفائی کرنے والا عملہ اور مکینکل یونٹس یا صفائی کرنے والی گاڑیاں اور مشینیں سڑکوں پر نظر آنے لگیں ہیں۔
یونیورسٹی روڈ ، جمرود روڈ، حیات آْباد اور رنگ روڈ کے کچھ حصے اور چند ایک دیگر علاقے ایسے ہیں جہاں صبح کے وقت زرد اور سبز رنگ کی وردیاں پہنے عملہ صفائی کرتا نظر آتا ہے۔
یہ وہ علاقے ہیں جہاں سے اکثر اہم شخصیات کا گزر ہوتا ہے۔ جن علاقوں سے اہم شخصیات کا گزر نہیں ہوتا وہاں صفائی بھی نہیں ہوتی۔
حیات آباد میں صبح کے وقت داخل ہوا تو یہاں کوئی 15 سے 20 صفائی کرنے والے عملے کے افراد ٹولیوں کی شکل میں صفائی کا کام کرتے دکھائی دیے۔ ان میں کچھ ایسے تھے جنھیں ایک ماہ قبل تعینات کیا گیا ہے جبکہ باقی عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں۔

اس عملے کے ایک رکن لاوی عاجز سے میں نے پوچھا کہ پہلے یہ لوگ صفائی کیوں نہیں کرتے تھے اور اب ایسا کیا ہوا ہے کہ عملے کے اتنے افراد سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا ’حکومت اچھی ہو تو کام بھی اچھا ہوتا ہے۔‘
لاوی عاجز نے بتایا کہ پہلے کوئی کرپشن کرتا تھا مگر اب عمران خان کی حکومت میں یہ برداشت نہیں کیا جاتا، وہ ہر اس افسر یا ملازم کو نکال دیتے ہیں جو کام نہیں کرتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیز تھری چوک پر صفائی کرنے میں مصروف شہزاد نے بتایا کہ وہ ایک ماہ پہلے تعینات ہوا ہے اور اس عرصے میں انھوں نے رنگ روڈ کی صفائی کی جہاں 15 سال سے صفائی نہیں کی گئی تھی۔
اس عملے کی نگرانی کے لیے نجی کمپنی کے ایک انسپکٹر محمد جمشید معمور تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر علاقے اور روڈ کی صفائی کے دن مقرر کیے گئے ہیں۔
ان سے جب پوچھا کہ جہاں اہم شخصیات کا گزر ہوتا ہے وہاں صفائی ہو ہی ہے تو انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے ہر علاقے میں عملہ تعینات ہے اور وہ کام کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جیسے افسر کہتے ہیں وہ ویسے ہی کام کرتے ہیں۔ پہلے شاید وسائل کی کمی ہوگی لیکن ہم تو پہلے بھی کام کرتے تھے۔
پشاور میں صدر کے علاقے اور اندرون شہر میں اب بھی اکثر مقامات پر گندگی پڑی ہوتی ہے اور انھیں تلف کرنے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں ہے۔
دور نہ جائیں پشاور میں جمرود روڈ پر بورڈ بازار کے قریب بھی گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں جبکہ کارخانوں مارکیٹ میں تجاوزات ختم کرنے کے بعد کچرا نہیں اٹھایاگیا۔

پشاور کے زون چار کے انچارج انجینیئر علی خان نے بتایا کہ یہاں آبادی کے حساب سے عملہ کم تھا اور اب کمپنی مزید 500 افراد تعینات کر رہی ہے جبکہ صفائی کی 70 مشینیں مذید لائی جا رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پہلے صفائی کے بعد 60 فیصد کچرا اٹھایا جاتا تھا اور40 فیصد رہ جاتا تھا لیکن اب 80 فیصد تلف کر دیا جاتا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے مریم زئی میں زمین حاصل کی ہے جہاں کچرے کو توانائی میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔
انجینیئر علی خان نے بتایا کہ اب ان کی کمپنی میں سزا اور جزا کا نظام رائج ہے۔ کچھ روز پہلے کام نہ کرنے والے پانچ افراد کو باقاعدہ طریقۂ کار کے تحت نوکریوں سے نکالا گیا ہے۔
پشاور میں ایسا بھی نہیں کہ صفائی کا کام نہیں ہو رہا اور ایسا بھی نہیں ہے کہ شہر کو صاف ستھرا کر دیا گیا ہے لیکن ایک حقیقت یہ ہے کہ شہر کی صفائی کے لیے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ اب یہ دیکھنا ہے یہ کوششیں کتنا عرصہ جاری رہتی ہیں۔



















