عامر خان کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما عامر خان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے.
عامر خان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام ہے۔
انسداد دہشت گردی کی جج خالدہ یاسین کی عدالت میں جمعے کو عامر خان کی ضمانت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ عامر خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف تاحال کوئی بھی ثبوت یا شواہد سامنے نہیں آ سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ رینجرز نے تین ماہ سے عامر خان کو تحویل میں رکھا ہے، اور انھیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ عدالت انھیں ضمانت پر رہا کرے، وہ مقدمات کا سامنا کریں گے۔
رینجرز کے وکیل نے ضمانت کی مخالفت کی اور موقف اختیار کیا کہ ملزم سے تفتیش مکمل نہیں ہوئی ہے اور جلد عبوری چالان پیش کیا جائے گا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد پیر 29 جون تک فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یاد رہے کہ رینجرز نے 11 مارچ کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے کے دوران ایک سو سے زائد کارکنوں سمیت عامر خان کو گرفتار کیا تھا۔ ابتدائی طور پر رینجرز کا یہ موقف سامنے آیا تھا کہ انھیں پو چھ گچھ کے بعد رہا کر دیا جائے گا لیکن بعد میں انھیں 90 روز کے لیے زیر حراست رکھا گیا اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا گیا۔
استغاثہ کا موقف تھا کہ نائن زیرو پر چھاپے کے دوران 26 ملزمان کو حراست میں لیا گیا جن میں فیصل موٹا بھی شامل ہے، جو صحافی ولی بابر کے قتل کیس میں غیر حاضری میں سزا یافتہ ہے۔
عامر خان نائن زیرو کی سکیورٹی کے انچارج تھے، اور پانچ ملزمان پر مشتمل ان کی ٹیم دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کو پناہ فراہم کرتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عامر خان ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف اس قسم کی کارروائیاں ایک طویل عرصے سے جاری ہیں۔



















