کیا پاک بھارت تعلقات آگے بڑھ پائیں گے؟

روسی شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقعے پر نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان ملاقات ہوئی
،تصویر کا کیپشنروسی شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقعے پر نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان ملاقات ہوئی
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی گاڑی ایک مرتبہ پھر سٹارٹ ہوئی ہے۔

شدید ہچکولے اب بھی کھا رہی ہے لیکن قابل اطمینان بات یہ ہے کہ چل پڑی ہے۔ اسلام آباد اور دہلی کے درمیان دشوار گزار ’شاہراہ شک و شبہات‘ میں یہ گاڑی گذشتہ ایک سال سے ایک بڑے گڑھے میں پھنسی گئی تھی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے پچھلے رمضان کے دوران دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے حریت کانفرنس کی قیادت کو افطاری پر مدعو کرنے پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے خارجہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات ملتوی کر دیے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس خطے میں اپنے مفادات کی خاطر امریکہ اور چین نے اس گاڑی کو چلانے کے لیے تیل اور دھکے کا بندوبست کیا ہے۔

پاکستان میں اس گاڑی کو چلانے کے لیے جو دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے مشترکہ بیان جاری کیا اس سے نواز شریف پر گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ نریندر مودی کے حوالے کرنے کا الزام لگ رہا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ انھوں نے بھارت کے مطلب کی تو تمام باتیں بیان میں ڈال دیں لیکن کشمیر کا ذکر نہ کر کے بہت بڑا جرم کیا ہے۔

ادھر اوفا کانفرنس کے بعد عید کے موقعے پر دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے کشمیری حریت رہنماؤں کو عید ملن پارٹی پر مدعو کیا ہے۔

پھر گذشتہ چند ماہ سے پاکستانی فوج بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کو لے کر پاکستان خصوصاً بلوچستان میں مداخلت کا جو بیانیہ تیار رہی تھی وہ بھی مشترکہ بیان میں کہیں دکھائی نہیں دیا۔ ہاں دہشت گردی جیسی عمومی بات اس میں ضرور ہے۔ تاہم مسئلہ دونوں ممالک کا یہی ہے کہ وہ اس دہشت گردی کی تعریف پر بھی آج تک متفق نہیں ہو سکے ہیں۔

’یہ پہلا ایسا مشترکہ بیان تھا جس میں کشمیر کا خصوصی ذکر نہیں تھا‘
،تصویر کا کیپشن’یہ پہلا ایسا مشترکہ بیان تھا جس میں کشمیر کا خصوصی ذکر نہیں تھا‘

اوفا بیان کو دیکھ کر ہی پاکستان میں کئیوں کی ’اُف‘ نکل گئی تھی اور قوی امکان تھا کہ نواز شریف کو واپسی پر کڑے سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔ اور وہی ہوا۔

پاکستان کے بھارت میں سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی نے ایک اخباری قالم بعنوان ’اوفا گُوف اپ‘ میں لکھا کہ مشترکہ بیان غیرضروری طور پر ’تباہ کن‘ تھا۔ یہ پہلا ایسا مشترکہ بیان تھا جس میں کشمیر کا خصوصی ذکر نہیں تھا۔ ان کے خیال میں پاکستانی وزارت خارجہ کے پاس سفارت کاری کی تمام مہارت موجود ہے، مسئلہ صرف یہ ہے کہ کیا اسے وہاں کام کرنے دیا گیا۔ ’کوئی شخص یا ادارہ اس کی جگہ نہیں لے سکتا۔‘

انھوں نے یہاں ایک کل وقتی وزیر خارجہ کی کمی کا بھی احساس دلایا۔

پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقاتیں ہمشہ ٹی 20 میچ ثابت ہوئی ہیں۔ پہلے تو یہی معلوم نہیں ہوتا کہ میچ ہوگا بھی یا نہیں۔ پھر اس کا جو بیان یا نتیجہ آتا ہے اس میں کبھی شرم الشیخ کی طرح پاکستان کا پلڑا بھاری تو کبھی بھارت کا ہوتا ہے۔ اس مرتبہ بازی یقیناً بھارت کے حق میں تھی۔

معروف تجزیہ نگار ایاز عامر نے اپنی ہفتہ وار کالم میں کہا کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کو کوئی مسئلہ نہیں بات صرف حجم اور قربت کی ہے۔ ’کسی اونٹ یا ہاتھی کے ساتھ ایک ہی خیمے میں رہنا آرام دہ ہرگز نہیں ہوتا۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمیں اپنی جگہ کی حفاظت کیسے کرنی ہے۔ لیکن انڈیا فوبیا اب ماضی کا قصہ بن جانا چاہیے۔‘

خارجہ امور کے حکومتی ماہرین اس بیان کے دفاع کے لیے میدان میں کود پڑے۔ قومی سلامتی اور خارجہ امور پر وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز کو پریس کانفرنس کرنا پڑی جبکہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی ایک نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں بیٹھ کر مشترکہ بیان کی وضاحتیں کرتے رہے۔

مشترکہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک نے حالیہ دنوں میں درپیش وقتی مسائل سے پہلے نمٹنے کی کوشش کی ہے۔

سرحدی کشیدگی میں کمی، مچھیروں کی رہائی اور سب سے اہم ممبئی حملے کی تحقیقات میں رکاوٹیں شامل ہیں۔ یہ مسائل کشمیر اور سر کریک جیسے بڑے مسائل تک بات بڑھنے ہی نہیں دے رہے تھے۔ یعنی مذاکرات کی گاڑی موٹر وے پر تب ہی آئے گی جب روزانہ کے تنازعات ختم ہوں گے۔

وزیراعظم نواز شریف کی دہلی میں اپنے ہم منصب نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی
،تصویر کا کیپشنوزیراعظم نواز شریف کی دہلی میں اپنے ہم منصب نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی

پاکستان کی تسلی کے لیے یہی کافی تھا جس کا ذکر سرتاج عزیز نے بھی اخباری کانفرنس میں کیا کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے اور دونوں کے لیے اہم مسائل پر بامعنی بات چیت کے لیے ماحول پیدا کرنے پر متفق ہے۔

غالباً اسلام آباد کی واحد کامیابی یہی ہے کہ خود نریندر مودی نے مذاکرات کی گاڑی کے راستے میں جو روڑے اٹکائے تھے وہ خود ہی ہٹائے ہیں۔ لیکن پاکستان نے اوفا میں تو نہیں لیکن اسلام آباد لوٹ کر واضح کر دیا کہ کشمیر کے تنازعے پر بات چیت کے بغیر باضابطہ مذاکرات شروع نہیں کیے جائیں گے۔

ممبئی حملے پر تو بات ہوئی لیکن سمجھوتہ ایکسپریس پر خاموشی بھی پاکستان وفد کے لیے اچھی نہیں تھی۔ اب سرتاج عزیز صاحب نے بتایا کہ اس بارے میں بھی ملاقات میں بھارت سے مزید تفصیل مانگی گئی ہے۔

اپنی منزل پر پاک بھارت مذاکرات کی زنگ آلود گاڑی آج تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ دیکھیں جو چیلنج اور مشکلات اسے درپیش ہیں اس میں اس مرتبہ یہ دو قدم آگے اور تین پیچھے جاتی ہے یا نہیں۔ فی الحال اس گاڑی کے لیے متبادل ٹریک ٹو بھی کھول دیا گیا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہ آگے بڑھ پائے گی۔