تاحیات نااہلی کا فیصلہ کالعدم مگر الیکشن پھر بھی ہوگا

جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے صدیق بلوچ کی درخواست کی سماعت کی
،تصویر کا کیپشنجسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے صدیق بلوچ کی درخواست کی سماعت کی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی صدیق بلوچ کی جعلی ڈگری کے حوالے سے ان پر تاحیات پابندی عائد کرنے کے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

تاہم عدالتِ عظمیٰ نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 154 میں دوبارہ انتخابات کروانے سے متعلق ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

الیکشن ٹربیونل نے پاکستان تحریکِ انصاف کے جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین کی درخواست پر صدیق بلوچ کو جعلی ڈگری اور انتخابی دھاندلی میں ملوث ہونے پر انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی عائد کر دی تھی اور اس حلقے میں دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا۔

الیکشن ٹربیونل کے اس فیصلے کو صدیق بلوچ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے صدیق بلوچ کی درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کے پاس مصدقہ تعلیمی اسناد ہیں جبکہ محض پراپیگینڈے کی بنیاد پر ان کے موکل پر تاحیات پابندی عائد کردی گئی ہے۔

جہانگیر ترین کے وکیل کا کہنا تھا کہ صدیق بلوچ نے جعلی تعلیمی اسناد پر انتخابات میں حصہ لے کر آئین کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

انھوں نے کہا کہ جعلی اسناد پر انتخابات میں حصہ لینا صرف امیدوار کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے شرم کی بات ہے۔

صدیق بلوچ نے عدالت کو بتایا کہ وہ اردو لکھ اور پڑھ سکتے ہیں جبکہ تھوڑی بہت انگلش بھی بول لیتے ہیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت نے تعلیمی اسناد کے بارے میں لوگوں کے امتحانات لینا شروع کردیے تو پھر عدالت عظمیٰ کے باہر لائنیں لگ جائیں گی۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ محض تعلیمی اسناد سے متعلق بیان دینے پر کسی کو جھوٹا یا صادق اور امین قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک عدالت کے سامنے ٹھوس شواہد موجود نہ ہوں۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں صدیق بلوچ پر انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالتی فیصلے کے بعد صدیق بلوچ کا کہنا ہے کہ اگر ان کی جماعت نے انھیں اس حلقے میں دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ٹکٹ دیا تو وہ انتخابات میں حصہ لیں گے۔

صدیق بلوچ سنہ 2013 کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے جس کے بعد انھوں نے پاکستان مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کی تھی۔