کوئٹہ: پانی کی ٹینکی سے چار بچیوں کی لاشیں برآمد

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چار بچیوں کی لاشوں کو پانی کی ایک ٹینکی سے نکالا گیا ہے۔
ہلاک ہونے والی چاروں بچیاں بہنیں تھیں جبکہ ان کی والدہ کو بے ہوشی کی حالت میں ٹینکی سے نکالا گیا۔
ایئر پورٹ روڈ پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ چاروں بچیوں کی ہلاکت کا واقعہ اسمنگلی روڈ پر کلی خیزی کے علاقے میں پیش آیا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ چاروں لاشوں کو ان کے گھر کے اندر موجود پانی کی ٹینکی سے نکالا گیا جبکہ بچیوں کی والدہ بھی ٹینکی میں پڑی تھی جسے بے ہوشی کی حالت میں نکالا گیا۔
بچیوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم اور ان کی والدہ کو طبی امداد کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔
بچیوں کے والد محمد خان نے بتایا کہ بچیوں کی عمر دو سال سےسات سال کے درمیان تھی۔
ہلاک ہونے والی بچیوں میں سے دو سکول کی یونیفارم میں تھیں غالباً ان کی ہلاکت کا واقعہ ان کی سکول سے واپسی کے بعد پیش آیا۔

بچیوں کے والد نے بتایا کہ انھیں یہ معلوم نہیں کہ یہ المناک واقعہ کس طرح پیش آیا کیونکہ وہ گھر میں موجود نہیں تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ انھیں ان کے ہمسایوں نے اس واقعے کے بارے میں اطلاع دی اور بتایا کہ ان کی بچیاں ٹینکی میں گر گئی ہیں۔
ایئر پورٹ روڈ پولیس سٹیشن میں اس واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
جب اس سلسلے میں پولیس سٹیشن کے ایک سینئر اہلکار سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بچیوں کی ہلاکت میں مبینہ طور پر ان کی والدہ کا ہاتھ ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’بچیوں کی والدہ کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں۔ انھوں نے بچیوں کو ٹینکی میں پھینکنے کے بعد خود ٹینکی میں چھلانگ لگادی تھی۔‘
تاہم اس واقعے کے اصل حقائق بچیوں کی والدہ کے ہوش میں آنے اور حالت بہتر ہونے کے بعد سامنے آسکیں گے۔



















