علی حیدر گیلانی بازیابی کے بعد پاکستان پہنچ گئے
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی افغانستان میں ایک فوجی کارروائی میں بازیابی کے بعد خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
ان کا طیارہ بدھ کی دوپہر لاہور کے ہوائی اڈے پر اترا جہاں علی گیلانی کے استقبال کے لیے ان کے اہلِ خانہ موجود تھے۔
انھیں ہوائی اڈے سے گاڑیوں کے قافلے میں ان کی رہائش گاہ تک لے جایا گیا ہے جہاں میڈیا اور عام لوگوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے موجود ہے۔
علی حیدر گیلانی کو نو مئی سنہ 2013 کو اِنتخابی مہم کے دوران پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان سے اغوا کیا گیا تھا اور وہ تین برس تک اغوا کاروں کی قید میں رہے۔
انھیں منگل کی صبح افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے پکتیکا کے علاقے گیان میں ہونے والے ایک آپریشن کے نتیجے میں بازیاب کرایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بازیابی کے بعد علی گیلانی کو پہلے بگرام کے ہوائی اڈے اور پھر کابل منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کا مکمل طبی معائنہ ہوا تھا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بدھ کی صبح دس بجے کے قریب افغان حکام نے انھیں کابل میں پاکستانی سفیر ابرار حسین کے حوالے کیا۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم کے حکم پر ایک خصوصی طیارہ علی حیدر گیلانی کو لینے کے لیے کابل پہنچا جو انھیں وہاں سے لاہور لایا ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق طیارے پر علی گیلانی کے علاوہ ان کے بھائی قاسم گیلانی بھی موجود ہیں جو انھیں لینے کابل پہنچے تھے۔
اسلام آباد میں موجود سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے بیٹے کی واپسی پر بی بی سی اردو کی نوشین عباس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ہمیں علی حیدر کی بازیابی کی خبر ملی تو میں اپنے خاندان والوں کے ساتھ موجود نہیں تھا اور اب بھی دوپہر تک لاہور جاؤں گا اور شاید بلاول ہی کے ساتھ جاؤں۔ لگتا ہے کہ میں اپنے بیٹے کا نہیں میرا بیٹا میرا استقبال کرے گا۔‘
یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ علی حیدر گیلانی کے اغوا کے تین برس کے دوران انھوں نے کوشش کی تھی کہ وہ خود کو مصروف رکھیں اور اس واقعے کے بارے میں کم سے کم سوچیں اور اسی طرح وہ یہ وقت گزارنے میں کامیاب ہو سکے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے بیان میں علی گیلانی کی بازیابی اور پاکستان واپسی کے لیے افغان نیشنل آرمی اور نیٹو افواج کی کوششوں کی تعریف بھی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان پرامید ہے کہ خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔
منگل کو افغانستان میں نیٹو حکام کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ علی گیلانی کی بازیابی کے لیے ہونے والی مشترکہ فوجی کارروائی میں امریکی فوج کے خصوصی دستوں اور افغان کمانڈوز نے حصہ لیا۔
اس فوجی کارروائی میں چار شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی بھی کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ علی حیدر گیلانی رواں برس بازیاب ہونے والی دوسری اہم شخصیت ہیں۔ اس سے قبل سابق گورنر پنجاب کے بیٹے شہباز تاثیر بھی ساڑھے چار برس اغوا کاروں کی قید میں رہنے کے بعد آٹھ مارچ کو صوبہ بلوچستان کے علاقے کچلاک سے برآمد ہوئے تھے۔



















