تناؤ طورخم سے نکل کر سوشل میڈیا پر آ گیا

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ چار دنوں سے طورخم سرحد پر جاری کشیدگی میں بالآخر کمی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں تاہم بظاہر لگ رہا ہے یہ تناؤ اب سرحد سے نکل سوشل میڈیا پر منتقل ہوگیا ہے جہاں اس کی شدت زیادہ نظر آ رہی ہے۔
گذشتہ چند دنوں سے جس طرح طورخم سرحد پر ہر دوسرے روز تناؤ میں اضافہ ہوتا رہا ایسا ہی منظر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی مسلسل دیکھا جا رہا ہے۔ گذشتہ روز سے دونوں ممالک کے نوجوان طبقے کی طرف سے فیس بک اور ٹوئٹر پر عجیب و غریب اور طرح طرح کے اشتعال انگیزی پر مبنی پیغامات شیئر کیے جا رہے ہیں جس میں ایک دوسرے کے ملکوں پر تنقید اور مداخلت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
کچھ افراد کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ افغانستان کی طرف سے سرحد پر فائرنگ مبینہ طور پر پاکستان کے ایک دشمن ملک کے ایما پر کی گئی ہے۔ صاحبزادہ سلیل جاوید نے فیس بک پر لکھا ہے کہ ’افغانستان کیوں پاکستانی افواج پر فائرنگ کر رہا ہے اور کسی کے کہنے پر شرارت کر رہا ہے۔‘
ایک اور شخص گران پشتون لکھتے ہیں کہ وہ طورخم سرحد کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے پشتونوں کو کوئی جدا نہیں کر سکتا۔
کچھ نوجوانوں کی طرف سے اس کشیدگی کے تناظر میں اپنے قومیتوں کے بارے میں بھی لکھا جا رہا ہے اور ان نوجوانوں میں اکثریت پاکستانیوں کی لگ رہی ہے۔ نیاز بین ملنگ نے لکھا ہے کہ ’میں یوسف زئی ہوں میرے آباؤ اجداد افغانستان سے خیبر پختونخوا آئے اور میں افغان ہوں اور ہمیشہ افغان رہوں گا۔ میں اپنا مذہب تبدیل کرسکتا ہوں لیکن قومیت نہیں۔‘

جاوید خان لکھتے ہیں کہ اس لڑائی کا سب سے زیادہ نقصان سرحد کے دونوں جانب آباد پشتونوں کو ہو رہا ہے لہذا دونوں کو متحد ہوکر حکومتوں پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ اس معاملے کو حل کیا جائے۔
کچھ سینیئر صحافیوں کی طرف سے دونوں ممالک کے نوجوانوں پر زور دیا جارہا ہے کہ فیس بک اور ٹوئٹر پر ایسے پیغامات پوسٹ نہ کیے جائیں جس سے نفرت پھیلتی ہو ورنہ آنے والے دنوں میں اس کے انتہائی خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
سینیئر صحافی اور مصنف عقیل یوسف زئی نے لکھا ہے کہ ’آپ کے دل میں دونوں طرف کے لوگوں کےلیے تھوڑا سا درد بھی ہے تو برائے مہربانی اشتعال انگیز الفاظ لکھنے سے پرہیز کریں کیونکہ اس موقع پر یہی سب سے بڑی خدمت ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ افغانستان کی مختلف حکومتوں نے ڈیورنڈ لائن سرحد کو ہمیشہ سے ایک تاریخی تناظر میں دیکھا ہے۔ افغانستان میں عوام کا ایک طبقہ ہمیشہ سے اس سرحد کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی کشیدگی مختلف ادوار میں سامنے آتی رہی ہے تاہم پچھلے چند سالوں کے دوران اس میں شدت آ گئی ہے۔ افغانستان کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ پاکستان نے تقریباً 24 کلومیٹر کے قریب ڈیورنڈ لائن کے مختلف مقامات پر ان کے علاقوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔
جنوبی وزیرستان کے سرحدی مقام انگور اڈہ اورمہمند ایجنسی کے چند مقامات کے بارے میں بھی افغانستان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان ان کے علاقے میں داخل ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان فوج نے انگور اڈہ چیک پوسٹ افغان حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد میں حکومت کی طرف سے اس کی تردید کی گئی تھی۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ سرحدی تناؤ پر پاکستان اور افغانستان کی قوم پرست اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے جب بھی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی تو سیاسی جماعتیں بالخصوص پشتون قوم پرست جماعتیں کشیدگی کم کرنے کےلیے بیانات جاری کرتی رہی ہے۔



















