چینی جنرل کی خودکشی، اصل معاملہ کیا ہے؟

ژانگ یانگ 23 نومبر کو اپنے گھر میں مردہ حالت میں ملے
،تصویر کا کیپشنژانگ یانگ 23 نومبر کو اپنے گھر میں مردہ حالت میں ملے
    • مصنف, کیری ایلن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

چین میں سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ فوج کے ایک اعلیٰ اہلکار نے خود کشی کی تھی جس کے بعد میڈیا میں اس کی ممکنہ وجہ کے بارے میں ایک بحث چھڑ گئی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق جمعرات کو وہ اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ان پر بدعنوانی میں ملوث ہونے کا شبہ تھا اور ان کی ہلاکت سے قبل پولیس نے ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

میڈیا کی اس بارے میں مکمل خاموشی کہ وہ اگست کے بعد سے کہاں تھے ہانک کانگ اور چین دونوں کے سوشل میڈیا میں تجسس پیدا کر دیا ہے۔

اخبار چائنہ ڈیلی نے اگست میں اچانک یہ اعلان کیا تھا کہ ان کے ایک سیاسی عہدے پر اب کوئی دوسری شخصیت کام کرے گی۔

ژانگ یانگ تھے کون؟

ژانگ نے مئی 2017 میں انگلولا کے دورے پر جانے والے وفد کی صدارت کی
،تصویر کا کیپشنژانگ نے مئی 2017 میں انگلولا کے دورے پر جانے والے وفد کی صدارت کی

ژانگ پیپلز لبریشن آرمی میں جنرل تھے اور انھیں صدر شی جن پنگ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا اور سنہ 2012 میں صدر شی جن پنگ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کے عہدوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔

ژانگ کمیونسٹ پارٹی کی حکومت میں فوج کی اعلی ترین شاخ سنٹرل ملٹری کمیشن کے بھی رکن تھے۔

وہ کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے بھی رکن تھے اور فوج کے سیاسی شعبے جنرل پولیٹیکل ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر رہے۔ یہ فوج کا وہ انتظامی محکمہ ہے جو فوج کی سیاسی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے۔

گمشدگی پر میڈیا کا موقف

اگست میں یہ افواہیں پھیلیں کہ ایک دوسرے اعلیٰ اہلکار کے ساتھ ساتھ ژانگ سے بھی صدر شی کی جانب سے چلائی گئی انسادِ بدعنوانی مہم کے تحت پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

23 اگست کو ہانگ کانگ کے روزنامہ منگ پاؤ نے لکھا کہ ان دونوں افراد کو تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم چین کی مرکزی میڈیا میں ایسی کوئی خبر نہیں آئی اور اس بارے میں وہاں اگست کے بعد سے مکمل خاموشی رہی۔

چین کی مرکزی کانگرس میں شامل شخصیات کی فہرست میں ان دونوں افراد کی غیر موجودگی نے افواہوں کو مزید ہوا دی۔

یکم ستمبر کو ہانگ کانگ کے ادارے سنگ تاؤ نے خبر دی کہ ان دونوں افراد کو ’ضوابط کی خلاف ورزی کے سنجیدہ الزامات کے تحت‘ حراست میں لیا گیا ہے۔

سنا تاؤ بیجنگ کا حامی اخبار ہے اور یہ مرکزی میڈیا کی خبریں آگے چلاتا ہے۔ تاہم اس حوالےسے بیجنگ کے میڈیا میں بھی کچھ نہیں بتایا گیا۔

شنہوا نے پیر کو صرف یہ خبر دی کہ ژانگ سے پولیس نے اگست میں رشوت ستانی اور بڑے پیمانے پر جائیداد بنانے کے جرائم کے حوالے سے پوچھ گچھ کی تھی۔

سی سی ٹی وی نے پیر کو خبر دی کی ژانگ نے خود کشی کر لی ہے
،تصویر کا کیپشنسی سی ٹی وی نے پیر کو خبر دی کی ژانگ نے خود کشی کر لی ہے

سوشل میڈیا پر بحث

ژانگ کی ہلاکت چینی میڈیا پر اس وقت سب سے بڑا موضوع بحث ہے۔ اگرچہ کئی صارفین نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اس واقعے کی سیاسی حساسیت کے باوجود وہ اس بارے میں رائے کا اظہار کرنے میں آزاد ہیں۔

سینائی وائبو کے متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ سرکاری میڈیا کو اس ہلاکت کا اعلان کرنے میں پانچ دن کیوں لگ گئے۔

ایک صارف کا کہنا تھا ’حکومت کو چاہیے کہ وہ یقینی بنائے کہ تمام میڈیا اپنا مسودہ پیشگی تیار رکھیں۔‘

کئی صارفین اس بات پر حیران ہیں کہ کیسے وہ دورانِ پوچھ گچھ اپنے جان لینے کے قابل ہو گئے۔

ایکل صارف نے محتاط انداز میں لکھا ’کہا گیا ہے کہ یہ ایک خود کشی ہے لیکن حقیقت میں یہ ۔ ۔ ۔ ‘

ایک اور صارف نے لکھا ’ مردہ بول نہیں سکتا‘ ایک دوسرے نے لکھا ’اگر وہ مر چکا ہے تو وہ مزید لوگوں کو نہیں بچا سکتا۔ ‘