برطانیہ: ویزے کی توسیع میں تاخیر، پاکستانی ڈاکٹر رشتے دار کے جنازے میں شرکت نہیں کر سکے

،تصویر کا ذریعہDr Muhammad Aamir Shahzad
برطانیہ میں مقیم ایک پاکستانی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی حکومت کی جانب سے وقت پر ویزے کی تجدید نہ ہونے کے باعث پاکستان میں اپنے ایک رشتہ دار کے جنازے میں شرکت نہیں کر سکے۔
ڈاکٹر محمد عامر شہزاد کا کہنا ہے کہ وہ 11 اگست کو اپنے رشتے دار کے انتقال پر پاکستان کا دورہ نہیں کر سکے کیونکہ برطانیہ کے محکمہ داخلہ نے ان کے ویزا کی تجدید نہیں کی تھی۔
وہ شیفیلڈ کے رائل ہالیمشائر ہسپتال میں کووڈ 19 کی وبا کے دوران کام کرنے والے سٹاف کی مدد کے لیے برطانیہ میں خصوصی ویزے کے تحت کام کر رہے ہیں۔
برطانیہ کے محکمہ داخلہ نے اس معاملے پر معذرت کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تیس سالہ ڈاکٹر شہزاد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ویزے میں توسیع کی درخواست 13 مئی کو دی تھی۔
متعدد بار محکمہ داخلہ کو ای میلز بھیجنے اور ٹیلیفون کرنے کے باوجود انھیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا جس کے باعث انھیں خدشہ تھا کہ وہ پاکستان جانے کے بعد واپس برطانیہ میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔
ڈاکٹر شہزاد کا کہنا ہے کہ وہ دل کے دورے کے شکار ہونے والے اپنے رشتے دار کے بہت قریب تھے۔ ’میں بہت بے یار و مددگار محسوس کر رہا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ واقعہ ساری زندگی میرے اعصاب پر سوار رہے گا کیونکہ میں محکمہ داخلہ کی وجہ سے وہاں نہیں جا سکا۔‘

،تصویر کا ذریعہNEIL THEASBY / GEOGRAPH
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ تاخیر پاسپورٹ میں غلط معلومات اور ایک ’انتظامی غلطی‘ کی وجہ سے ہوئی جس کی وجہ سے وہ فراہم کردہ دیگر معلومات سے بھی ڈاکٹر شہزاد کو شناخت نہیں کر سکے۔
ایک ترجمان نے کہا ’جہاں ہمیں ہنگامی طور پر سفر کی وجہ بننے والے غیر معمولی حالات کے بارے میں آگاہی ہو، وہاں ہم ویزا درخواستوں کو جتنا تیز تر ہو سکے نمٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
’ہمیں ڈاکٹر محمد عامر شہزاد کی جانب سے ہنگامی طور پر سفر کی ضرورت کے بارے میں 10 اگست کو پہلی اطلاع ملی، اور ہم ان کے ویزا میں توسیع پر ترجیحی بنیاد پر کام کر رہے ہیں۔‘
ترجمان نے کہا ’ہم اس وجہ سے ڈاکٹر شہزاد کو پہنچنے والی ذہنی پریشانی پر تہہ دل سے معذرت خواہ ہیں۔‘






















