بھارت: لوک سبھا کا اجلاس تعزیتی قرارداد کے بعد ملتوی

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY
بھارت کی 16ویں لوک سبھا بدھ کے روز شروع ہوئی تاہم مرکزی وزیرگوپی ناتھ منڈے کو خراج عقید ت پیش کرنے کے بعد کل تک کے لیے اجلاس کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔
واضح رہے کہ مرکزی وزیر برائے دیہی ترقی گوپی ناتھ منڈے کا منگل کی صبح ایک کار حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔
آج ان کے آبائی وطن مہاراشٹر کے بیڑ ضلعے میں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔
دریں اثنا مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا ہے کہ اگر گوپی ناتھ منڈے نے سیٹ بیلٹ پہنی ہوتی تو ان کی جان بچ سکتی تھی۔
منڈے کی آخری رسومات میں شامل ہونے کے لیے روانہ ہونے سے قبل ہرش وردھن نے کہا: ’میں نے اپنا دوست ایک خیال خام کی وجہ سے گنوا دیا۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ پچھلی سیٹ کا بیلٹ صرف دکھاوے کی چیز ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ انھیں پہننا اتنا ہی ضروری ہے جتنا آگے کی سیٹ بیلٹ۔‘
اس سے قبل بھارتی صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے کانگریس رہنما کمل ناتھ کو پروٹیم یعنی عبوری سپیکر کے طور پر حلف دلوایا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی دیگر سینیئر رہنما موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
لوک سبھا میں ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی پروٹیم سپیکر کمل ناتھ نے 16 ویں لوک سبھا کے لیے منتخب ارکان کی فہرست پیش کیے جانے کے لیے کہا۔ اس کے بعد انھوں نے نئی دہلی میں گذشتہ روز کار حادثے میں ہلاک ہونے والے مرکزی وزیر کے بارے میں تعزیتی قرارداد پڑھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد ایوان میں موجود ارکان نے اپنی جگہ کھڑے ہو کر دو منٹ خاموش رہ کر منڈے کو خراج عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
جمعرات کو ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے بعد نو منتخب ارکان کو حلف دلایا جائے گا۔
اس سے قبل پارلیمنٹ جاتے وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے 16ویں لوک سبھا کا اجلاس شروع ہونے پر عوام کو مبارکباد دی اور کہا کہ ’جمہوریت کے اس مندر میں بھارت کے عام لوگوں کی امیدوں اور خواہشوں کی تکمیل کی پوری کوشش کی جائے گی۔‘
16ویں لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے سب سے بڑے اتحاد کے طور پر ابھر کر سامنے آئي جسے543 میں سے 335 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔
سابق حکمراں اتحاد یو پی اے کی سب سے بڑی اتحادی پارٹی کانگریس کو 44 سیٹیں ملیں۔ کانگریس نے سینیئر رہنما اور رکن پارلیمان ملّكاارجن كھڑگے کا نام حزب اختلاف کے رہنما کے طور پر پیش کیا ہے۔



















