مغربی بنگال میں پٹاخہ فیکٹری میں دھماکے سے 11 ہلاک

بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ضلع مدناپور میں پٹاخے اور آتش بازی کا سامان بنانے والی ایک غیر قانونی فیکٹری میں دھماکے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ بدھ کی رات مغربی مدناپور میں ایک گاؤں میں پیش آیا۔
دھماکے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے تین کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
مغربی مدناپور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ بھارتی گھوش نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے عمارت کے مالک رنجن میتي کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ فیکٹری کے مالک رام میتي اور ان کی بیوی اس دھماکے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔
جائے حادثہ پر جمعرات کی صبح پہنچنے والے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ کے قریب جسمانی اعضاء بکھرے پڑے ہیں جبکہ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد پولیس کے اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے۔
دھماکے کی تحقیقات کے لیے فورینزك ٹیم جائے حادثہ کی جانب روانہ کر دی گئی ہے۔
یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ اس فیکٹری کے پاس لائسنس نہیں تھا اور پولیس کو اس غیر قانونی فیکٹری کے بارے میں معلومات تھیں۔
مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ فیکٹری کا مالک کے ریاست کی حکمراں پارٹی سے نزدیکیوں کی وجہ سے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم حکمراں پارٹی ترنمول کانگریس نے کہا ہے کہ گرفتار ہونے والے شخص سے اس کا کوئی تعلق نہیں.
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ صرف غیر قانونی پٹاخہ فیکٹری تھی لیکن اپوزیشن نے اس معاملے کی مرکز سے تفتیش کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کی پٹاخہ فیکٹریوں میں اس طرح کے حادثے ماضی میں بھی پیش آتے رہتے ہیں۔
گذشتہ برس ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین اور آندھراپردیش کے ضلع گوداوری میں ایسے ہی واقعات میں درجنوں افراد مارے گئے تھے۔



















