’میرا باپ مر گیا، کسی اور کا نہیں مرے گا‘

اس المناک واقعے کے بعد علاقے میں ہر جگہ نشہ مخالف بینر اور پوسٹر لگے ہیں
،تصویر کا کیپشناس المناک واقعے کے بعد علاقے میں ہر جگہ نشہ مخالف بینر اور پوسٹر لگے ہیں
وقت اشاعت

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر ممبئی میں زہریلی شراب سے 102 افراد کی ہلاکت کے بعد متاثرہ بستی کے مکینوں کا احتجاج اب شراب کے غیرقانونی کاروبار کے خلاف ایک مہم میں بدلتا نظر آ رہا ہے۔

زہریلی شراب سے ہلاکتوں کا واقعہ گذشتہ ہفتے ملاڈ کے علاقے میں واقع ملواني نامی بستی میں پیش آیا تھا۔

یہ واقعہ اس علاقے میں میڈیا کی چہل پہل، پولیس کی کارروائی اور متاثرین کے ماتم کا مرکز رہا لیکن اب یہاں نشہ مخالف غصہ سامنے آ رہا ہے۔

اس علاقے کی خواتین نے خاموشی توڑ کر متحد ہونے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی ایسے حادثے سے بچا جا سکے۔

ملوانی کی خواتین کے بقول وہ خاصے عرصے سے علاقے میں شراب کی غیرقانونی فروخت سے پریشان تھیں اور اسے ختم کرنے کے لیے انھوں نے قانون کا دروازہ بھی كھٹكھٹایا تھا۔

اس حادثے میں اپنے شوہر کو کھونے والی نسيمن نے بی بی سی ہندی کے سشنات موہن کو بتایا: ’میں پہلے شوہر سے لڑی، پھر شراب کے اڈے والے سے، جھگڑا بڑھا تو پولیس میں بھی گئی لیکن پولیس نے مجھے ہی خاموش رہنے کو کہا۔‘

کچھ ایسی ہی کہانی ہے 29 سالہ برکھا کی جن کے شوہر جمعے کو شراب پینے گئے تو واپس ہی نہیں آئے، ’میرا شوہر مجھے شراب پی کر مارتا تھا، کئی بار پولس میں شکایت کی لیکن پولیس میرے ہی شوہر کو مارتی تھی۔‘

تازہ حادثے سے سبق سیکھ کر خواتین نے نشے سے نجات کی تحریک شروع کر دی ہے
،تصویر کا کیپشنتازہ حادثے سے سبق سیکھ کر خواتین نے نشے سے نجات کی تحریک شروع کر دی ہے

علاقے کی تمام عورتوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے اکثر پولیس میں شراب کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف شکایت درج کروائی لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔

زہریلی شراب بنانے کے ملزم فرانسس کے مکان کے سامنے رہنے والی سورا کہتی ہیں: ’پولیس نے کتنی بار چھاپے مارے لیکن ہر بار فرانسس سے ’ کچھ‘ بات کرنے کے بعد پولیس والے لوٹ جاتے اور وہ ہم پر رعب جھاڑتا۔‘

علاقے کی ایک اور رہائشی جيوتي نے بتایا: ’ہم سب خواتین ایک بار جلوس نکال کر تھانے تک بھی گئی تھیں لیکن ہمیں دو گھنٹے تک باہر بٹھایا گیا اور پھر کچھ دیر بعد وہاں سے جانے کو کہا گیا۔‘

یہ خواتین سنہ 2004 کو یاد کرتی ہیں جب اسی علاقے میں دیسی شراب سے کچھ لوگوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ خواتین کا الزام ہے کہ پولیس نے کھلم کھلا شراب کی بھٹی چلانے والے راجو اور فرانسس سے پیسے لیے تھے۔

لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ اس تازہ حادثے سے سبق سیکھ کر خواتین نے نشے سے نجات کی تحریک شروع کر دی ہے اور ممبئی پولیس بھی اس مہم میں ان کے ساتھ مل گئی ہے۔

پولیس حکام خواتین کے ساتھ ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں اور پولیس نے مالوي میں خواتین کی 32 كمیٹیاں بھی بنا دی ہیں
،تصویر کا کیپشنپولیس حکام خواتین کے ساتھ ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں اور پولیس نے مالوي میں خواتین کی 32 كمیٹیاں بھی بنا دی ہیں

اب علاقے میں ہر جگہ نشہ مخالف بینر اور پوسٹر لگے ہیں اور ساتھ ہی پولیس حکام خواتین کے ساتھ ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں اور پولیس نے ملوانی میں خواتین کی 32 كمیٹیاں بھی بنا دی ہیں۔

ممبئی پولیس کے ڈپٹی کمشنر پولیس وکرم دیشمانے کہتے ہیں: ’گھر کے مرد اگر غلط کام کر رہے ہیں تو ہم عورتوں کو اپنا ہتھیار بنائیں گے کیونکہ ایک عورت کے لیے اس کے خاندان کا دشمن ہی سب سے بڑا دشمن ہے، اور فی الحال یہ دشمن نشہ ہے۔‘

اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد پولیس اور ملوانی کی خواتین کا یہ اتحاد ایک اچھی پہل لگ رہا ہے۔

اس پہل میں سب سے آگے ہیں وہ خواتین جنھوں نے اس حادثے میں اپنے شوہر، بھائی یا باپ کو کھویا ہے اور اب وہ پرعزم ہیں کہ ان کے پاب بھائی تو مر گئے لیکن کسی اور کے باپ بھائی کو وہ مرنے نہیں دیں گی۔