ویاپم سکینڈل کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے

،تصویر کا ذریعہVIPUL GUPTA
بھارتی سپریم کورٹ نے ریاست مدھیہ پردیش میں پروفیشنل ایگزامینیشن بورڈ کے زیر انتظام ہونے والے امتحانات میں منظم دھاندلی کے سکینڈل اور اس سے منسلک درجنوں افراد کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی ہیں۔
’ویاپم سکینڈل‘ سے منسلک تمام معاملات کی تحقیقات مرکزی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی سے کروانے کے لیے درخواست کانگریس کے رہنما دگ وجے سنگھ نے سپریم کورٹ میں دائر کی تھی۔
سپریم کورٹ نے سی بی آئی سے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کرے کہ مدھیہ پردیش میں ہزاروں طلبا نے سرکاری نوکریوں کے حصول اور میڈیکل اور انجینیئرنگ کالجوں میں داخلے کے امتحانات میں نقل کروانے کے لیے جرائم پیشہ افراد کو رقوم ادا کیں۔
اس کے علاوہ تحقیقاتی ادارہ اس سکینڈل سے منسلک یا اسے افشا کرنے والے 30 سے زیادہ افراد کی ہلاکتوں کی بھی تفتیش کرے گا۔
ان میں ٹرک تلے کچل کر ہلاک کیے جانے والے تین طلبا اور ایک متاثرہ خاندان کے انٹرویو کے بعد گذشتہ سنیچر کو مردہ پائے جانے والے صحافی کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق عدالت میں سرکاری وکیل اٹارنی جنرل مکل روہتگي نے بھی پورے معاملے کی سی بی آئی سے تحقیقات کروانے کی حمایت کی۔
فیصلے کے بعد دگ وجے سنگھ نے عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ’شیو راج سنگھ چوہان اگر دو سال پہلے یہ فیصلہ کر لیتے تو انھیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
وياپم کے امتحانات میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں میں ریاست کے گورنر سے لے کر وزیر اعلیٰ تک الزامات کے گھیرے میں آئے ہیں تاہم وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ اس معاملے کی تفتیش کرنے والی خصوصی ٹاسک فورس نے مقامی عدالت کو بتایا تھا کہ اس سکینڈل سے منسلک 33 افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم اپوزیشن کا دعوی ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
میڈیکل امتحانات کے بورڈ میں منظم دھاندلی کا سکینڈل اب افسانوی شکل اختیار کر رہا ہے۔
یہ سکینڈل اب اتنا وسیع ہوگیا ہے کہ سنہ 2012 سے تقریباً 2530 لوگوں پر اس میں ملوث ہونے کا الزام لگا ہے۔
فی الوقت مدھیہ پردیش کی 20 عدالتوں میں اس سلسلے میں 55 مختلف مقدمے جاری ہیں جبکہ پولیس نے اب تک 1980 افراد کو گرفتار کیا ہے اور 550 ملزمان مفرور ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق سنہ 2007 سے مدھیہ پردیش پروفیشنل ایگزامینیشن بورڈ کے زیر انتظام ایک لاکھ 40 ہزار افراد نے امتحان دیے اور حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے 1000 سے زیادہ افراد کی غیر قانونی طور پر تقرری ہوئی ہے۔



















