’غلط لاش‘ برطانیہ بھیجی گئی، اہل خانہ کا لاش لینے سے انکار

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK
برطانیہ کے تاجر رنجیت سنگھ پاور کے خاندان نے پنجاب پولیس پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے جو لاش انھیں بھیجی ہے، وہ رنجیت سنگھ کی نہیں ہے۔
رنجیت سنگھ کا اس سال مئی میں بھارت کے سفر دوران قتل ہو گیا تھا۔
ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے بھیجی جانے والی ڈی این اے رپورٹ رنجیت سنگھ کے لندن میں واقع دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس موجود ڈی این اے ریکارڈ سے نہیں ملتی۔
رنجیت سنگھ کی بیٹی ایما پاور نے بی بی سی کو بتایا: ’جو لاش برطانیہ لائی گئی ہے وہ میرے والد رنجیت سنگھ پاور کی لاش نہیں ہے۔ اس بات کی تصدیق اس سے ہوتی ہے کہ ان کے دانتوں کے ریکارڈ اور ڈی این اے ان کے والد کے ڈی این اے سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘
اس معاملے کی تفتیش کرنے والے جالندھر کے ایڈیشنل پولیس کمشنر امريك سنگھ کہتے ہیں: ’نہر سے لاش برآمد کرنے کے بعد پولیس نے ڈی این اے کی جانچ کے لیے اس کے نمونے بھیجے تھے۔ لاش بے لباس تھی اور اس کی شناخت رشتہ داروں نے ان کے کڑے سے کی تھی جو رنجیت سنگھ پہنتے تھے۔ لاش کو لندن بھیجا گیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK
امريك سنگھ نے کہا کہ رنجیت سنگھ کے قتل کے الزام میں کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گيا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈی این اے کی اصلیت کی جانچ کے لیے پولیس کو مرنے والے کی والدہ کے ڈی این اے کے نمونوں کی ضرورت ہے۔
انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اس بات سے دہلی میں واقع برطانوی سفارت خانے اور رنجیت سنگھ کے خاندان کو آگاہ کیا ہے لیکن پولیس کو ابھی کوئی جواب نہیں ملا ہے۔
امريك سنگھ نے بتایا کہ پولیس کو رنجیت سنگھ کے اہل خانہ کا ایک خط ملا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے بھیجا جانے والے ڈی این اے کے نمونے کی رپورٹ ان کے دانتوں کے ریکارڈ سے میل نہیں کھاتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ برطانوی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں صرف انہی سے بات چیت کی جائے نہ کہ براہ راست رنجیت سنگھ کے خاندان سے نہیں۔
رنجیت سنگھ کی بیٹی ایما پاور کہتی ہیں: ’میری دادی کے ڈی این اے کے نمونے بھارت اس لیے نہیں بھیجے گئے، کیونکہ جب اس کے لیے درخواست دی گئی، تب تک ہمیں یہ پتہ چل گیا تھا کہ لاش میرے والد کی نہیں ہے، ایسے میں ڈی این اے کا نمونہ بھیجنے کی ضرورت نہیں رہ گئی تھی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’برطانیہ میں موجود لاش اب برطانوی حکام کی ذمہ داری ہے۔‘



















