جواہر لعل نہرو کے خط پر تنازع

،تصویر کا ذریعہwww.msstributes.org
بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہر کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک جعلی خط کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں انھوں نے بھارت کی تحریک آزادی کے مجاہد سبھاش چندر بوس پر تنقید کی تھی اور انھیں جنگی مجرم قرار دیا تھا۔
یہ خط سنہ 1945 میں تحریر کیا گیا تھا اور اس کے مخاطب اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی تھے اور اس پر جواہر لال نہرو کے دستحظ تھے۔
یہ خط ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سبھاش چندر بوس سے متعلق پرانی خفیہ فائلوں کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ان فائلوں میں ایسے کسی خط کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔
بھارت کے ایک سرکردہ تاریخ داں راما چندرا گوہا نے وضحات کی ہے کہ یہ جعلی ہے لیکن اس سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر یہ جنگ کی آگ کی طرح پھیل چکا ہے۔
خط میں تحریر تھا ’ ڈیر مسٹر ایٹلی، انتہائی مقتدر ذرائع سے میرے علم میں آیا ہے کہ سبھاش چندر بوس کو جو آپ کی حکومت کے جنگی مجرم ہیں سٹالن نے روس کی سرحدوں میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ ایک کھلا دھوکہ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے کیونکہ روس امریکہ اور برطانیہ کا اتحادی رہا ہے اور اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مہربانی فرما کر اس کا نوٹس لیں اور اس ضمن جو بہتر سمجھیں وہ کریں۔‘
بہت سے لوگوں نے اس خط کی زبان پر حیرت اور غصے کا اظہار کیا اور بھارتیہ جنتہ پارٹی کے چند ارکان نے حزب مخالف کانگریس پارٹی سے جس کے جواہر لعل نہرو رہنما تھے مطالبہ کیا ہے کہ اس خط سے سبھاش چندر بوس کی جو ہتک ہوئی ہے اس پر معافی مانگیں۔
اتوار کو ٹوئٹر پر #NehruKilledBose بہت مقبول ہو رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کانگریس نے اس پر ایک سخت بیان جاری کیا ہے جس میں جعلی دستاویزات کو جاری کرنے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
سبھاش چندر بوس کی موت بہت ہی پراسرار رہی ہے اور اس بارے میں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں۔
بہت سے لوگ اس سرکاری بیان کو ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ سبھاش چندر بوس ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔



















