ملزم کی برطانیہ حوالگی کیسے ممکن؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عنبر شمسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان اور برطانیہ کے مابین ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں ہے لیکن پاکستان نے برطانیہ کےشہر بریڈفورڈ میں دہرے قتل کے مقدمے میں مطلوب محمد زبیر کو ویسٹ یارکشائر پولیس کے حوالے کیا ہے۔ ایسا کیسے ممکن ہے؟
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسا قانون موجود ہے جس کے تحت مطلوب ملزم کو غیر ملکی پولیس کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے تحویلی ایکٹ 1972 کے مطابق اگر پاکستان میں ایسا ملزم موجود ہے جس نے کسی اور ملک میں سنجیدہ جرم کا ارتکاب کیا ہو تو اسے اس ملک کی پولیس کے حوالے کرنے کےلیے وزارتِ داخلہ اور خارجہ امور سے درخواست کی جا سکتی ہے۔
اسی قانون کے سیکشن فور کے تحت اگر یہ درخواست منظور ہو جائے تو سرکاری گزیٹ میں شائع ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ West Yorkshire Police
ماہر قانون احمر بلال صوفی نے بتایا ’یہ درخواست ڈسٹرکٹ جج کے سامنے پیش ہوتی ہے جو اس کا معائنہ کرتے ہیں۔ اس شحض کے پاس پھر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا حق بھی ہوتا ہے۔‘
برطانوی ہائی کمیشن کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنےکی شرط پر بتایا کہ یہ قانون تب ہی استعمال میں آ سکتا ہے جب جرم کی نوعیت سیاسی نہ ہو اور اس کے لیے ثبوت عدالت کے سامنے پیش کرنےہوتے ہیں جیسے محمد زبیر کے مقدمےمیں کیا گیا۔ انھوں نے بتایا ’کہ محمد زبیر نے بھی سپریم کورٹ میں بھی اپیل دائر کی تھی۔‘
مغربی یارکشائر پولیس کے ایک بیان کے مطابق محمد زبیر وقوعے کے وقت 31 برس کے تھے اور ان پر مئی سنہ 2011 میں نیو لین ٹونگ کے رہائشی 27 سالہ عمران خان اور 35 سالہ احمدین سید کمال کے دہرے قتل کی فردِ جرم عائد کی گئی۔
محمد زبیر اس واردات کے فوراً بعد برطانیہ چھوڑ کر پاکستان فرار ہوگئے تھے۔ وہ اب ویسٹ یارکشائر کی عدالتوں کا سامنا کریں گے۔ محمد زبیر تین سال تک پاکستانی پولیس کے تحویل میں رہے جب پاکستانی قوانین کے تحت ان کے جرم کی تحقیقات کی گئیں۔
گذشتہ گیارہ برسوں میں یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان میں موجود ایک مجرم کو برطانیہ بھیجاگیا ہو۔ اس سے قبل اکتوبر 2005 میں فیصل مشتاق، ذیشان شاہد اور عمران شاہد کو کرس مکڈونلڈ کے قتل کے جرم میں برطانوی حکام کے حوالے کیا گیا اور ان تمام کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم برطانوی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں مقیم پاکستان کومطلوب مجرموں کی حوالگی کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ’اگر کوئی ایسا جرم ہو جس کی سزا موت ہو، تو اس درخواست کو منظور نہیں کیا جا سکتا۔‘
احمر بلال صوفی کا کہنا ہے کہ یہ صرف برطانیہ کا اصول نہیں ہے، دیگر یورپی ممالک کا بھی ہے جہاں سزائے موت ممنوع ہے اور اس کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیمیں متحرک ہیں۔ ’یورپی ممالک میں پہلے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ جس ملک کے حوالے کیا جا رہا ہے، وہاں کہ قوانین کیا ہیں۔ فرض کریں کسی شخص نے قتل کیا ہو جس پر سزائے موت ہے، تو مجرم کو شاید اس ملک نہ بھیجا جائے۔‘



















