قے آئے تو فوراً ٹویٹ کریں

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
اگر آپ کو مسلسل قے یا اسہال کی شکایت ہو تو فوراً اپنا موبائل فون اٹھائیں اور ٹوئٹر پر اس کی اطلاع دیں۔
اس سے آپ کی مشکل میں کوئی کمی تو نہیں آئے گی لیکن ایک یا دو ٹویٹس سے محققین کو سرد موسم میں قے آنے سے متعلق جراثیم کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
برطانیہ کی فوڈ سٹینڈرڈ ایجنسی نورو وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری یعنی موسم سرما میں قے آنے کو سمجھنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہے۔
نورو وائرس کھانے پینے کی چیزوں کے ذریعے یا پھر ذاتی رابطے سے پھیلتا ہے۔ اس کی علامات ایک سے دو دن میں ظاہر ہوتی ہیں اور انفیکشن کا اثر اگلے دو دنوں تک موجود رہتا ہے۔
2013 میں فوڈ سٹینڈرڈ ایجنسی نے اس وائرس کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا آغاز کیا تھا۔
ایجنسی نے پہلے تو گوگل سرچ کے اعداد و شمار کی مدد لی جس سے انھیں معلوم ہوا کہ اس حوالے سے معلومات حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ سوشل میڈیا ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@HALEY_JULI/TWITTER
اس حوالے سے ڈاکٹر سیان ٹامس کا کہنا ہے کہ ’یہ سب فوری طور پر معلومات حاصل کرنے سے متعلق ہے کہ ان کی زندگیوں میں اس وقت کیا ہو رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@SAJARINA/TWITTER
ڈاکٹر سیان کے مطابق: ’اگر آپ کسی ہسپتال میں یا کسی نرسنگ ہوم میں ہیں تو عملہ آپ نمونے حاصل کرنے کے بعد اسے لیبارٹری میں بھیج دیتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوڈ سٹینڈرڈ ایجنسی ان سرکاری نمونوں کا اس سے وائرس سے متعلق ٹویٹس کے ساتھ موازنہ کرتی ہے۔ پھر اس سے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں کہ ’بیمار ہونے سے متعلق ٹویٹس اور لیبارٹری نمونوں کے درمیان کیا تعلق موجود ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ ہم 70 سے 80 فیصد تک درست پیشن گوئی کر سکتے ہیں کہ اگلے ہفتے اس مرض کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘





















