انسانی بچے کی مانند گنگناتے چمگادڑ کے بچے

،تصویر کا ذریعہMICHAEL STIFTER
کوسٹا ریکا میں چمگادڑوں کے گھونسلوں سے چھپ کر آوازیں سنتے محققین نے یہ دریافت کیا ہے کہ چمگادڑ کے بچے اسی طرح آوازیں پیدا کرتے ہیں جیسے انسان کے بچے۔
چمگادڑیں ایک ربط کے ساتھ بار بار آوازیں نکالتی ہیں۔ یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ چمگادڑ کا انداز بھی انسان کے چھوٹے بچے جیسا ہوتا ہے جس کی ’غوں غاں‘ کی آوازیں ہی اس کی اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ رابطے کی بنیاد رکھتی ہے۔
ڈاکٹر فرنینڈس اس تحقیق کی سربراہی کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چمگادڑیں طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک ان آوازوں کو نکالنے کی مشق کرتے رہتے ہیں۔
ڈاکٹر فرنینڈز برلن کے میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں تعینات ہیں اور انھوں نے خاص طور پر بولنے والی انواع، گریٹر سیک ونگڈ بیٹ یعنی وہ چمگادڑ جس کے پر تھیلی نما ہوتے ہیں اور اسے سیکوپٹریکس بلینیاٹا کہتے ہیں۔
یہ چمگادڑیں دراصل گانے والے پرندے کی مانند گنگناتی ہیں۔
’تو ان کا آواز کے ذریعے ایک بہت پرکشش رابطے کا ذریعہ ہے، ایک مخصوص ردھم میں آوازوں کا نکالنا اور جھومنا۔‘
ڈاکٹر فرنینڈز اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے اس تحقیق کے نتائج کو ’سائنس‘ میں شائع کیا گیا ہے۔ انھوں نے ان آوازوں کو سنا جو چمگادڑ کے بچوں کی گھونسلے میں موجودگی کے دوران گنگناتے ہوئے ریکارڈ کی گئی تھیں۔
بالغ چمگادڑیں بنیادی الفاظ کو اپنے گانوں میں بار بار دوہراتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی لے اور تال اور بار بار دہرائی انسان کے بچے کی بولنا شروع کرنے سے پہلے کی آواز سے ملتی ہے۔
انسان کو بولنے کے لیے آواز میں کام آنے والے عضو پر بہت بہترین کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔
بچے منھ سے جو آوازیں نکالتے ہیں اور پھر ٹوٹے پھوٹے الفاظ بولنا شروع کرتے ہیں یہ دراصل اس کنٹرول کو حاصل کرنے کی مشق ہی ہوتی ہے۔
اور محققین کا کہنا ہے کہ یہ چمگادڑوں کے لیے بھی درست ہے۔

،تصویر کا ذریعہMICHAEL STIFTER
ڈاکٹر فرنینڈس کا کہنا ہے کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ بالغ چمگادڑوں کی آوازیں مختلف ہوتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ہم یہ واضح طور پر کہہ سکتے ہیں کہ بظاہر چمگادڑ کے بچوں کی آوازیں بڑوں کی یادیں تازہ کرتی ہیں۔
مزید پڑھیے
تھیلی نما پروں والی چمگادڑ گریٹر سیک ونگ بیٹ ہی واحد چمگادڑ ہے جس کے گنگنانے کے بارے میں اب تک پتہ چلا ہے۔
اس کے علاوہ دنیا بھر میں چمگادڑ کی کل 1400 اقسام ہیں۔ ڈاکٹر فرنینڈس کا کہنا ہے کہ ’میرا واقعی خیال ہے ایسی اور بھی چمگادڑ ضرور ہو گی جو گنگناتی ہوں۔‘
’واقعی سنتے ہیں‘
یہ تحقیق ان ممالیہ کے لیے اہم ہو سکتی ہے جنھیں آواز کے ذریعے بات چیت یا رابطہ کرنا ہو۔
وہ کہتی ہے کہ اب یہ بڑا کام رہ گیا ہے کہ اس گانے والی چمگادڑ کی نسل کے بارے میں سمجھا جائے۔
ڈاکٹر فرنینڈس کا کہنا ہے کہ چمگادڑ کے بچے واقعی جب ’غوں غاں‘ کر رہے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو سن رہے ہوتے ہیں۔
ابتدا میں ایک نے غوں غاں شروع کی اور پندرہ منٹ کے لیے یا اس سے زیادہ دیر تک آوازیں نکالتا رہا اور میں واضح طور پر دیکھ سکتی تھی کہ اس کے کان اور دوسرے بچوں کے کان ہل رہے تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ واقعی ایک دوسرے کو سن رہے ہوتے ہیں لیکن ان کی یہ مشق ایک دوسرے پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے یہ مجھے معلوم نہیں۔‘























