100 سے زائد تودے نیوزی لینڈ کی جانب

نیوزی لینڈ کی میری ٹائم نے بحرہِ اوقیانوس میں موجود بحری جہازوں کو وارننگ جاری کی ہے کہ سو سے زائد برفانی تودے نیوزی لینڈ کی جانب بہہ کر آ رہے ہیں۔
یہ برفانی تودے اینٹارکٹک سے جدا ہو کر بہہ رہے ہیں جن میں سے کچھ کا قد و قامت چھ سو پچاس فٹ تک ہے۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ تہ تودے نیوزی لینڈ پہنچنے سے پہلے ہی پکھل جائیں گے۔ اس سے قبل دو ہزار چھ میں تودے نیوزی لینڈ کے اتنے قریب دیکھے گئے تھے۔
جگرچہ اس سمندری راستے میں بحری جہاؤں کی آمدو رفت اتنی نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ وارننگ جاری کی گئی ہے۔ نیوزی لینڈ کی میری ٹائم کے ترجمان روس ہینڈرسن کا کہنا ہے ’بحری جہازوں کے لیے یہ ایک عام سی وارننگ ہے تاکہ وہ ان تودوں کے حوالے سے آگاہ رہیں۔‘
آسٹریلین اینٹارکٹک ڈویژن میں گلیشیئر کی تحقیق کرنے والے نیل ینگ کا کہنا ہے کہ ان تودوں کا سفر نیوزی لینڈ کے ساؤتھ آئی لینڈ کی جانب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مواصلاتی تصاویر میں تودوں کا ایک جھرمٹ نظر آ رہا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مزید تودے نہیں ہیں۔
ینگ نے کہا کہ سب سے قریب ترین تودہ قدو قامت میں 98 فٹ ہے اور یہ سٹیورٹ جزیرے سے ایک سو ساٹھ میل دور ہے۔
سائینسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تودے سنہ دو ہزار میں ایک بڑے گلیشیئر سے جدا ہوئے تھے اور اس کے بعد سے یہ سمندری بہاؤ کے ساتھ سفر کر رہے ہیں اور مزید چھوٹے تودوں میں تقسیم ہو رہے ہیں۔
سنہ دو ہزار چھ میں بھی کئی تودے اسی گلیشیئر سے علیحدہ ہوئے تھے اور نیوزی لینڈ کے ساحلی علاقے کے پچیس کلومیٹر تک پہنچ گئے تھے۔ اس سے قبل تودوں کو 1931 میں دیکھا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پانی اور ماحول کی ریسرچ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ کے اہلکار مائیک ولیمز کا کہنا ہے کہ یہ تودے پچیس کلومیٹر فی دن کی رفتار سے سفر کر رہے ہیں اور ان کو امید نہیں کہ کوئی بھی تودہ نیوزی لینڈ کے ساحلی علاقے تک پہنچ پائے گا۔



















