موبائل فون سے الزہائمرز کا امکان کم

امریکی ریاست فلوریڈا میں سائسندانوں نے بتایا ہے کہ نئے تجربوں سے معلوم ہوتا ہے کہ موبائل فون سے پیدا ہونے والی تابکاری الزہائمرز کے مرض سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
اس سے پہلے موبائل فونوں کے بارے میں یہ ہی خیال رہا ہے کہ ان سے نکلنے والی تابکاری انسانی دماغ اور صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
اس تجربے کی تفصیل سائنسی جریدہ ’جرنل آف الزہائمرز‘ میں شایع ہوئی ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ چوہوں پر کیے گئے ایک تجربے میں یہ دیکھا گیا کہ فون کی تابکاری سے ان چوہوں کے حافظے کو فائدہ ہوا جن کو الزہائمرز ہے۔
تحقیق میں چھیانوے چوہوں کا جائزہ لیا گیا جن میں سے بیشتر میں اس نوعیت کی جینیاتی تبدیلیاں کی گئیں کہ ان کے دماغوں میں الزہائمرز ہونے کا رحجان ہو۔
تمام چوہوں کو سات سے لے کر نو مہینے کے عرصے میں روزانہ دو گھنٹے تک موبائل فون کی تابکاری سے گزارا گیا۔ ان کے پنجروں کو ایک اینٹینا کے گرد رکھا گیا جسں سے موبائل فون کا سگنل نشر ہوتا رہا۔ تمام چوہوں کے پنجرے اینٹینا سے یکساں فاصلے پر رکھے گئے۔
تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ پروفیسر گیری ارینڈیش کے مطابق جب یہ عمل چوہوں میں کم عمری سے شروع کیا گیا تو ان چوہوں کا حافظہ متاثر نہیں ہوا۔
الزہائمرز گروپ کے چوہوں کی حافظے کے ٹیسٹ میں کارکردگی غیر الزہائمرز گروپ کے چوہوں جتنی اچھی تھی۔ اس کے علاوہ زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ ایلزھائمرز گروپ کے جن چوہوں میں حافظہ کم ہونے اور بھولنے کی علامتیں شروع ہوچکی تھیں ان کی بھی تابکاری کے بعد کارکردگی بہتر ہو گئی۔
پروفیسر ارینڈیش کا کہنا ہے کہ ’حافظے پر ان مثبت اثرات کے بارے میں مزید تفصیل آگے جا کر معلوم ہوگی لیکن یہ بالکل واضح ہے کہ طویل عرصے تک الیکٹرو میگنیٹک ایکسپوژر سے تجربے میں شامل چوہوں کو فائدہ ہوا ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تجربے کی بنیاد پر یہ توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں انسانوں میں بھی موبائل فون کے استعمال کے مثبت اثرات دیکھے جائیں گے۔ اس تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ الزہائمرز کے مرض کے علاج میں الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ کا استعمال مفید ہے سکتا ہے۔ یہ ایسا طریقہ علاج ہے جس میں نہ ادویات استعمال ہوں اور نہ ہی مریض کو سرجری کے کسی عمل یا تکلیف سے گزرنا پڑے۔
تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس طریقہ علاج سے الزہائمرز کے مریضوں کے علاوہ ان فوجوں کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے جن کو جنگ میں سر پر سنگین زحم لگے ہوں۔ ان مریضوں کے دماغوں میں بھی بیٹا ایلکوئڈ پلاک بننے شروع ہو جاتے ہیں جیسے کہ ایلزھائمرز میں ہوتا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق ماضی کے تجربوں میں یہ دیکھا گیا تھا کہ ’لو فریکووینسی‘ الیکٹرو میگنیٹک لہروں سے منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ وہ لہریں ہیں جو بجلی اور ٹیلیفون لائنوں سے پیدا ہوتی ہیں تاہم موبائل فون کی ایکٹرو میگنیٹک لہروں کی شدت مختلف ہوتی ہے اور وہ ہائی فیرکوینسی ہوتی ہیں۔ اس تجربے کے بعد خیال ہے کہ ان ہائی فیرکوینسی لہروں سے دماغ اور حافظے کے کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔
پروفیسر ارینڈیش نے وہ تحقیق بھی کی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ کافی پینے کی عادت بھی انسانوں کو ایلزھائمرز سے بچا سکتی ہے۔



















