’آنکھ کےٹیسٹ سے الزئمرز کا علاج ممکن‘

وقت اشاعت

برطانوی سائنسدانوں کے مطابق آنکھ کے آسان سے ٹیسٹ کے ذریعے الزائمرز اور دیگر بیماریوں کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔

اس ٹیکنیک کے ذریعے روشنی منعکس کرنے والے نشان انسانی دماغ میں مرتے ہوئے خلیوں سے جڑ جاتے ہیں اور ان کو آنکھ کی پتلی میں دیکھا جاسکتا ہے اور اس طرح دماغ میں مرنے والے یا بیمار خلیوں کا پہلے سے پتا چل جاتا ہے۔یہ تجربہ ایک چوہیا پر کیا گیا ہے لیکن سائنسدان انسانوں پر ایسا تجربہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کے سائنسدانوں کے مطابق عام عینک ساز بھی اس بیماری کا ٹیسٹ لے سکیں گے۔

سیل ڈیٹھ نامی رسالے میں چھپنے والی اس تحقیق کے مطابق اس ٹیسٹ کے ذریعے سائنسدانوں کو ایسے افراد کا علاج کرنے میں آسانی ہو گی جوالزائمرز کے مرض میں مبتلا ہیں۔

اس سے قبل سائنسدانوں کو اس بیماری کی تشخیص کے لیے ایم آر آئی اور پوسٹ مارٹم کا سہارا لینا پڑتا تھا۔

اس نئی ٹیکنیک کے ذریعے سائنسدان انسانی دماغ میں مرتے ہوئے خلیوں کوآنکھ کی پتلی سے دیکھ سکیں گے۔الزائمرز ریسرچ ٹرسٹ کی ترجمان ریبیکا ووڈ نے بتایا کہ اس تحقیق سے سائنسدانوں کو الزائمرز کی بیماری جانچنے میں مدد ملے گی۔

.