ایٹلانٹس آخری مشن پر روانہ
امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی خلائی مرکز سے خلائی جہاز اٹلانٹس ممکنہ طور پر اپنے آخری مشن پر کامیابی سے خلا کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔

اس موقع پر کینیڈی کے خلائی مرکز پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع تھی جو خلائی جہاز کے آخری بار خلا میں روانہ ہونے کے مناظر دیکھنے آئے تھے۔
روانگی کے موقع پر ایٹلانٹس کے لانچ ڈائریکٹر مائیک لینبچ نے خلائی جہاز کے عملے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ وہ انیس سو اسی سے ایٹلانٹس کو خلا میں روانہ کرنے والی، دیکھ بھال کرنے اور اس کو تیار کرنے والی ٹیم کی جانب سے خلائی جہاز کے عملے کو کامیابی کا پیغام دیتے ہیں کہ وہ خلا میں جائیں اور تفریح کریں۔‘
ایٹلانٹس خلائی جہاز بارہ روز کے خلائی مشین کے دوران بین الاقوامی سپیس سٹیشن پر ایک روسی موڈیول پہنچائے گا۔
اس موڈیول کی لمبائی تئیس فٹ ہے جو بین الاقوامی سٹیشن پر نصب کیا جائے گا۔اس کے علاوہ اس میں خلائی سٹیشن کے پلیٹ فام کے لیے چھ نئی بیٹریاں، ایک اضافی مواصلاتی اینٹینا اور ٹول ٹرے شامل ہے جس کی مدد سے سٹیشن پر نصب خودکار ہاتھ کو کنٹرول کیا جائے گا۔
خلائی جہاز ایٹلانٹس پہلی بار سال انیس سو پچاسی میں خلائی مشن پر روانہ ہوا تھا۔ اب تک یہ اکتیس بار خلا میں جا چکا ہے۔ اس دوران یہ دو سو بیاسی دن مدار میں رہا ہے۔
ناسا کا ارادہ ہے کہ رواں سال کے آخر تک اپنے تین خلائی جہازوں کو ریٹائرڈ کرنے کاہے۔ باقی دو خلائی جہازوں میں ڈسکوری اور اینڈیور ہیں۔ ان دونوں خلائی جہازوں نے دو مزید خلائی مشنز پر ابھی جانا ہے۔
خلائی جہازوں کو ریٹائرڈ کرنے کا فیصلہ امریکی صدر اوباما کی اس نئی پالیسی کے تناظر میں کیا گیا ہے جس میں انھوں نے ناسا سے کہا تھا کہ خلا میں نئے مقامات پر پہنچے کے لیے جدید جہاز تیار کریں جو زیادہ فاصلے طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















