زیرگی میں کمی سے غذا کم ہونے کا خدشہ

وقت اشاعت

بھارتی سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق زیرگی کرنے والے کیڑے مکوڑوں کی کمی کے باعث زرعی پیداوار میں کمی آ رہی ہے اور خدشہ ہے کہ اس سے لوگوں کی خوراک تک رسائی محدود ہو جائے گی۔

یہ تحقیق لیڈز یونیورسٹی میں برٹش ایکولوجیکل سوسائٹی میں پیش کی گئی۔

سائنسدانوں کے مطابق زیرگی اور زرعی پیدوار میں گہرا تعلق ہے۔ اور زیرگی میں کمی کے باعث زراعت کے شعبے پر اثرات مرتب ہوں گے۔

ایک اندازے کے مطابق عالمی طور پر زیرگی سے دو سو چوبیس بلین ڈالر زراعت ہوتی ہے۔

بھارت میں سالانہ ساڑھے سات ملین ٹن سبزیاں اگائی جاتی ہیں جو کہ عالمی پیداوار کا چودہ فیصد ہے۔

کولکتہ یونیورسٹی کے پروفیسر پراتیبا باسو کا کہنا ہے کہ زیرگی میں کمی کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش تو پائی جاتی ہے لیکن کوئی تحقیق نہیں کی گئی۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’بہت بہتر ہوتا کہ ہم گزشتہ سالوں میں زیرگی کی معلومات کو اکٹھا کر کے تجزیہ کرتے لیکن یہ معلومات مہیا نہیں ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ معلومات مہیا نہیں تھیں اس لیے ان کی ٹیم نے زیرگی کے باعث پیداوار اور وہ فصلیں جن کی پیداوار پر زیرگی کا اثر نہیں ہوتا ان کی معلومات کا تجزیہ کیا۔ جس زراعت پر زیرگی کی ضرورت نہیں ہے اس میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو آیا ہے۔‘

شماریات کے مطابق زراعت بھارت کی مجموعی قومی پیداوار کا پانچواں حصہ ہے۔ اور زراعت پر بھارت کی آدھی آبادی کی روزگار منحصر ہے۔

باسو کا کہنا ہے کہ بھارت کو خوراک کی سکیورٹی کا مسئلہ درپیش نہیں ہو گا۔

’بھارت میں زیادہ تر فصلوں کا انحصار زیرگی پر نہیں ہوتا۔ اس لیے زیرگی کے حوالے سے بحران سے خوراک کی مقدار پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

تاہم باسو کا کہنا تھا کہ ’زیرگی کے بحران سے غذائی خوراک متاثر ہو گی۔‘