دفاعی بجٹ کم کریں: سائنسدان

سائنسدانوں کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ پبلک سائنس کی بجائے دفاعی شعبے میں ہونے والی تحقیق کے فنڈز میں کٹوتی کی جائے۔
پنتیس سینیئر سائنسدانوں نے برطانوی اخبار گارڈین میں چھپنے والے ایک خط میں کہا ہے کہ وزارتِ دفاع ہر سال دو ارب پاؤنڈ نئے جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر خرچ کرتی ہے جو کہ نا موزوں ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق خاص طور پر یہ ایک ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب حکومت عوامی شعبے میں سائنس کے لیے مختص فنڈ میں کٹوتیاں کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔
’سائنس برائے عالمی ذمہ داری‘ کا یہ گروپ ہتھیاروں میں کمی کے حوالے سے مہم چلاتا ہے۔
اس خط پر دستخط کرنے والوں میں نمایاں شخصیات بھی شامل ہیں جن میں ریاضی دان سر مائیکل اور نیچرل ہسٹری کے پروفیسر اوبری مینگ بھی شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’عالمی سطح کی تحقیق خطرے میں ہے، جبکہ حکومت جوہری ہتھیاروں کی تیاری( اے ڈبلیو ای) پر کئی ارب پاؤنڈ کا خرچ جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
سائنسدانوں کے اس گروپ کے ڈائریکٹر سٹیورٹ پارکنسن کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر خرچ کی جانے والی رقم کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی ہے۔
حکومت ہر سال تحقیق اور بہتری پر تقریباً آٹھ ارب پاؤنڈ کی رقم خرچ کرتی ہے جس میں سے ایک چوتھائی جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے مختص ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سائسندانوں کا کہنا ہے کہ ’ہمارا یقین ہے کہ اگر سائنس کے ترقیاتی فنڈز میں کوئی کٹوتی کی جاتی ہے تو یہ کٹوتی لازمی طور پر وزرات دفاع کے ریسرچ اینڈ ڈولپمنٹ پروگرام میں کی جائے۔‘
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ٹرائیڈینٹ نیوکلیئر ڈیفنس سسٹم‘ کی جگہ لینے والے سسٹم کے منصوبے کو بھی ختم کر دیا جائے۔
لیکن سائنس اور انجینئرنگ کے لیے مہم چلانے والے عمران خان کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کا یہ سوچنا غلط ہے کہ فوج کے تحقیقاتی فنڈز میں کٹوتی کرنے سے سول ریسرچ کے لیے زیادہ فنڈ دستیاب ہونگے۔
’ فوجی تحقیق کے لیے فنڈ وزارت دفاع کے بجٹ سے آتے ہیں اور ادارے کے طور پر وہ طے کرتے ہیں کہ کتنی رقم سائنس اور انجنیئرنگ پر خرچ کرتی ہے۔‘
وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فوجی شعبے میں ہونے والی تحقیق اور ترقی براہ راست افغانستان میں تعینات فوجیوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے اور جنگ میں جیت کے لیے مدد گار ٹیکنالوجی کی وجہ سے محاذ جنگ پر زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔



















