روزانہ ایسپرین سے آنتوں کے کینسر کا خطرہ کم

برطانیہ میں ہر بیس میں سے ایک فرد کو زندگی میں آنتوں کا کینسر ہو جاتا ہے اور یوں برطانیہ میں آنتوں کا کینسر تیسرا بڑا عام کینسر ہے
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ میں ہر بیس میں سے ایک فرد کو زندگی میں آنتوں کا کینسر ہو جاتا ہے اور یوں برطانیہ میں آنتوں کا کینسر تیسرا بڑا عام کینسر ہے
وقت اشاعت

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہر روز تھوڑی سی ایسپرین کے استعمال سے آنتوں کے کینسر کا ایک چوتھائی خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

اس سے پہلے کی تحقیق یہ تھی کہ اگر ایسپرین ہر روز زیادہ مقدار میں لی جائے تو آنتوں کے کینسر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسپرین کے زیادہ استعمال سے جسم میں کافی حد تک ناموافق اثرات پیدا ہوتے ہیں جن میں جسم کے اندر ہی اندر خون کا بہنا بھی شامل ہے۔

لینسٹ ویب سائٹ پر ایک مضمون میں سائنس دانوں نے لکھا ہے کہ نئی تحقیق کا فائدہ ان افراد کو ہوگا جو پچاس برس کی عمر کو پہنچ کر ہر روز کم مقدار میں ایسپرین کا استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

بیٹنگ باؤل کینسر یا آنتوں کے کینسر کو ہرانا نامی خیراتی ادارے نے نئی تحقیق کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کہا ہے کہ لوگوں کو ایسپرین کا استعمال شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

آکسفورڈ یونی ورسٹی میں ایسپرین پر ہونے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ چودہ ہزار مریضوں میں سے ایسپرین لینے والے ایک تہائی مریض موت کے میں منہ میں جانے سے بچ گئے۔

ماہرین نے بیس سال تک چار تحقیقی ٹیموں کے نتائج کو دیکھ کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہر روز ایسپرین کھانے سے مریضوں پر کس طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خیال رہے کہ طبی وجوہات پر مریضوں کو دی جانے والی ایسپرین کی مقدار، سر درد روکنے کے لیے لی جانے والی ایسپرین کی مقدار کے مقابلے میں صرف ایک چوتھائی ہوتی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ ایسپرین لینے سے آنتوں کے کینسر کا خطرہ چوبیس فیصد کم ہوا جبکہ اس بیماری سے مرنے کے واقعات میں پینتیس فیصد کمی آئی۔

اگرچہ ایسپرین کے روزانہ استعمال سے نامواقق اثرات ہو سکتے ہیں تاہم تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کم مقدار میں ایسپرین لینے سے یہ برے اثرات نسبتاً کم ہوتے ہیں جن میں نکسیر پھوٹنا وغیرہ ہیں۔

برطانیہ میں ہر بیس میں سے ایک فرد کو زندگی میں آنتوں کا کینسر ہو جاتا ہے اور یوں برطانیہ میں آنتوں کا کینسر تیسرا بڑا عام کینسر ہے۔ ہر سال سولہ ہزار افراد اس کینسر سے مرتے ہیں۔