روم کےعروج و زوال کا ریکارڈ درختوں میں

درختوں کے تنوں پر پائے جانے والے دائروں پر تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یورپ کی شہری زندگی کے عروج و زوال اور ماحولیات کی اچانک تبدیلی میں کوئی تعلق ہوسکتا ہے۔
محققین کی ایک ٹیم نے گزشتہ پچیس ہزار سال کے تقریباً نو ہزار لکڑی کے متبادل نمونوں کا جائزہ لیا ہے اور اسی پر ریسرچ کی بنیاد رکھی ہے۔
یہ نئے انکشافات سائنس کے جریدے میں شائع کیےگئے ہیں۔
اس تحقیق میں شامل ایک سائنس دان الف بنجین نے کہا کہ ماضي کے پچیس ہزار برسوں پر نظر ڈالنے سے کئی ایسی مثالیں ملتی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ماحولیات کی تبدیلی کا اثر انسانی تاریخ پر پڑا ہے۔
اس ٹیم نے اسی نظام کا سہارا لیا ہے جس کے تحت کھدائی کے دوران نکلے ہوئے مواد کی تارخ کا تعین کیا جاتا ہے۔
سائنس کے جریدے میں لکھاگیا ہے کہ آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے شاہ بلوط کے تنے کی چوڑائي کی تاریخی یادداشتوں کو پورے مرکزی یورپ سے جمع کیا اور پھر انہیں نمونوں کی تاریخ متعین کرنے کے مقصد کے لیے استعمال کیا ہے۔
جریدے کے مطابق شاہ بلوط کے درخت کی موجودہ اور قدیم ترتیب ہئیت میں باقی ہیں، خشک سالی اور برسات کے انوکھے طرز کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس ٹیم نے اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ گزشتہ صدیوں نے درختوں کے تنے کے بڑھنے پر کس طرح کا اثر ڈالا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دو سو پچاس عیسوی میں جب ماحولیات میں بہت زیادہ تغیر ہوا تو اس کے ساتھ ہی مغربی روم کی بادشاہت کا زوال آیا اور نقل مکانی کا بحران بھی برپا ہوا۔



















