چلّی میں وہیل مچھلیوں کا مدفن دریافت

،تصویر کا ذریعہSteve Duffiled
چلی سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں اور امریکی ماہرین نے وہیل مچھلیوں کی ستر لاکھ سال پرانی باقیات دریافت کی ہیں۔
چلی کے دارالحکومت سانتیاگو سے پانچ سو چالیس میل دور شمال میں واقع اٹاکاما نامی اس مقام سے اب تک اسّی وہیل مچھلیوں کی باقیات مل چکے ہیں جو کہ ماہرین کے نزدیک ایک حیران کن امر ہے۔
یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ایک ہی مقام سے اتنی بڑی تعداد میں باقیات دریافت کیے گئے ہیں۔
ماہرین کو ملنے والی باقیات میں سے کچھ مکمل ڈھانچے ہیں جن کے ذریعے ان پر تحقیق کے میدان میں نئی راہیں کھلنے کا امکان ہے۔ ایسے ہی ڈھانچوں میں میوسین دور کے ایک نر، مادہ اور بچہ وہیل پر مشتمل خاندان کے ڈھانچے بھی شامل ہیں۔
جس مقام سے یہ باقیات دریافت ہوئی ہیں وہ ایک ساحلی گاؤں کے نزدیک واقع ہے اور مقامی لوگ اسے ایک عرصے سے ’وہیل پہاڑی‘ کے نام سے جانتے ہیں۔
اس مقام پر کام کے نگران جان ویگا کا کہنا ہے کہ ’ پندرہ دن میں ہمیں پندرہ وہیل مچھلیوں کی باقیات ملی ہیں ۔ ایک جگہ سے اتنے ساری باقیات کا ملنا غیر متوقع ہے جس پر ہم حیران ہیں‘۔
وہیل مچھلیوں کی باقیات کی اس دریافت کو عالمی ماہرین بہت اہم قرار دے رہے ہیں ۔ ان کے مطابق آج تک ایک جگہ سے اتنی زیادہ تعداد میں مختلف اقسام کی وہیل مچھلیوں کی باقیات نہیں ملی ہیں۔
ان باقیات پر کام کرنے والی ٹیم کے سربراہ مارٹن سواریز کے مطابق ’ یہ مقام بہت زرخیز ہے اور یہاں سے ہمیں وہیل مچھلیوں کی نئی اقسام بھی ملی ہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چلی کی حکومت نے اس مقام سے ملنے والے باقیات کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک نیا عجائب گھر بنانے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں وہیل مچھلیوں کے ڈھانچوں کے علاوہ یہاں سے ملنے والے مگرمچھوں اور ڈولفن مچھلیوں کے ڈھانچے بھی رکھے جائیں گے۔



















