’گرم چائے کی پیالی‘ کے لیے 13 ہزار ڈالر کا خرچہ

،تصویر کا ذریعہbkon
ایک کمپنی کا کہنا ہے کہ تیرہ ہزار ڈالر کی مالیت کی چائے بنانے والی ان کی مشین ’بہترین چائے‘ بنا کر دے سکتی ہے۔
مشین بنانے والی کمپنی بیکن کا کہنا ہے کہ گرم پانی میں چائے کی پتی ڈالنے کے مقابلے چائے کو دم پر پکانے کا عمل خاصا پیچیدہ ہے۔
اس مشین کے نمونے امریکہ کی کافی شاپس میں تجربے کے طور پر لگائے گئے ہیں اور یہ مشین اس سال کے اواخر تک کمرشل استعمال کے لیے دستیاب ہوگی۔
لیکن ماہرین یہ سوال کر رہے ہیں کہ صرف چائے بنانے کے لیے کوئی اتنی بڑی رقم خرچ کیوں کرے گا۔
اس مشین میں چائے دم کرنے کا ایک انوکھا نظام ہے جسے ’ریورس ایٹموسفیئرک انفیوژن‘ کہا جاتا ہے۔
اس عمل کے تحت پیدا ہونے والی خلا کے سبب چائے کی پتی پانی کے اوپر تیرنے لگتی ہے اور کمپنی کے مطابق اس سے پتی کا جو شاندار ذائقہ نکل کر آتا ہے وہ صرف گرم پانی میں چائے کو ابالنے سے نہیں آ سکتا۔
اس کے بعد اس عمل کو 60 سے 90 سیکنڈز میں دہرایا جاتا ہے اور یہ مشین ایک گھنٹے میں 60 سے زیادہ کپ چائے بنا سکتی ہے۔
کیمبرِج کنسلٹنٹ نام کی کمپنی نے کیپسیول سے چائے بنانے والی پہلی مشین بنانے میں مدد کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ کمپنی اپنی مشین بازار میں لانے کی تیاری کر رہی ہے جس کی قیمت روایتی کافی بنانے والی مشین کی قیمت کے برابر ہوگی۔



















