انٹل چین کو سپرکمپیوٹرز کی چپس فروخت نہیں کر سکتا

،تصویر کا ذریعہTOP 500
امریکی حکومت نے کمپیوٹر بنانے والی کمپنی انٹل کو دنیا کے سب سے تیز سپر کمپیوٹر کی صلاحیت کو بڑھانے میں چین کی مدد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
انٹل نے’ تیان ہی 2‘ کمپیوٹر کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں چپس برآمد کرنے کے لیے لائنس حاصل کرنے کی درخواست کی تھی۔
امریکی محکمۂ تجارت نے یہ کہہ کر اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا کہ انھیں تحفظات ہیں کہ اس کمپیوٹر کے ذریعے جوہری تحقیق کا کام کیا جاتا ہے۔
کمپیوٹر پروسیسر بنانے والی کمپنی انٹل نے امریکی حکومت کے ساتھ مقامی لیبارٹری میں تیز ترین سپر کمپیوٹر بنانے کے لیے20 کروڑ ڈالر کا معاہدہ پہلے ہی کر رکھا ہے۔
’تیان ہی 2 ‘میں 80 ہزار انٹل چپس کی مدد سے 33 پیٹا فلاپ فی سیکنڈ حساب لگانے کی صلاحیت حاصل ہو گی۔ ایک پیٹافلاپ میں ایک ہزار کھرب فی سکینڈ حسان کتاب کر سکتا ہے۔
سپیر کمپیوٹرز کی نگرانی کرنے والے ادارے ٹاپ 500 کے مطابق’تیان ہی 2 ‘گذشتہ 18 ماہ سے دنیا کا سب سے تیز ترین کمپیوٹر ہے۔
رواں برس چین کے اس کمپیوٹر کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف قسم کی اپ گریڈز کی ضرورت تھی جس کا زیادہ تر انحصار انٹل کی یوان چپس پر ہے۔
چپ بنانے والی کمپنی نے اس حوالے سے امریکی حکام کو آگاہ کیا تھا جس پر انھیں لائسنس حاصل کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی محکمۂ تجارت کا ایک نوٹس کے ذریعے کہنا تھا کہ انٹل کی جانب تیان ہی 2 اور تین دوسرے چینی سپر کمپیوٹرز کو چپس برآمد کرنے کی درخواست کو اس لیے مسترد کیا گیا ہے کیونکہ یہ کمپیوٹر ’جوہری سرگرمیوں‘ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
اس نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ چار ادارے جہاں یہ سپر کمپیوٹر رکھے جائیں گے وہاں سے امریکہ کی قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی کے مفادات کے خلاف کام کیا جا سکتا ہے۔
چپ بنانے والی کمپنی نے آئی ڈی جی نیوز کو دیے ایک بیان میں کہا ہے کہ’انٹل نے اس نوٹیفیکشن پر عمل کرتے ہوئے لائسنس کے لیے درخواست کی تھی جو مسترد کر دی گئی ہے اور ہمیں امریکی قانون پر عمل کرنا ہے۔‘
اب چین خود ہی چپس بنانے کے عمل کو تیز کر کے چاروں سپر کمپیوٹرز کی صلاحیت میں اضافہ کرنے اور اپ گریڈ کرنے کے عمل کو مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔



















