’حملے کے وقت امریکی فوج کا آئی ٹی نظام خراب تھا‘

،تصویر کا ذریعہMSF
امریکی کانگریس کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ہسپتال پر غلطی سے کیے جانے والے حالیہ حملے کے دوران امریکی فوج کا انٹیلیجنس نیٹ ورک کام نہیں کر رہا تھا۔
ڈنکن ہنٹر ’ڈی سی جی ایس‘ یعنی ڈسٹریبیوٹڈ کامن گراؤنڈ سسٹم کے نقاد ہیں۔ انھوں نے اس حادثے کے بارے میں وزیرِ دفاع ایش کارٹر کو خط لکھا ہے۔ ڈی سی جی ایس فوج اور انٹیلیجنس کے درمیان رابطے کا نظام ہے۔
<link type="page"><caption> ’قندوز میں ہسپتال پر امریکی بمباری ایک غلطی تھی‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2015/10/151006_kunduz_john_campbell_mistake_zs" platform="highweb"/></link>
تین اکتوبر کو ہونے والے حملے میں کم سے کم 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ ڈی سی جی ایس کے نظام میں آنے والے اس خلل کا ہسپتال پر حملے کے فیصلے پر کوئی براہِ راست اثر پڑا تھا یا نہیں۔
ابھی تک یہ بات واضح نہیں کہ فوجی کمانڈروں نے اس حملے کا فیصلہ کیوں کیا۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ حملہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا تھا۔
ڈنکن ہنٹر نے کہا کہ ڈی سی جی ایس کے بارے میں انھیں یہ اطلاع فوجی اہلکاروں نے دی ہے، تاہم وہ سرِ عام یہ بات نہیں کہہ سکتے۔
اپنے خط میں ہنٹر نے لکھا ہے: ’فوج کے اعلیٰ اہلکار ڈی سی جی ایس کی ناکامی کو چھپانے کے لیے غیر معمولی حد تک گئے ہیں۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ اس نظام کے باعث مزید حادثات کو پیش آنے سے روکیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جس پروگرام کے بارے میں مسٹر ہنٹر نے نشاندہی کی ہے حملے کے دن اس کے سرور سمیت بعض حصے بند تھے۔ یہ نظام فوج کے مختلف ڈویژنوں میں رابطہ قائم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ باہر موجود فوجیوں سے رابطہ کرنے والا نظام بھی بند تھا۔
ہسپتال چلانے والے امدادی تنظیم میدساں ساں فرنتیئر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر ہنٹر کے بیان سے اس وقعے کی آزادانہ تحقیقات کی ضرورت کی تائید ہوتی ہے۔
تنظیم نے امریکی محکمہ انصاف، پینٹاگون، نیٹو اور امریکی افغان ٹیم سے تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔



















