24 گھنٹوں کی تاخیر کے بعد روسی راکٹ خلا میں

،تصویر کا ذریعہ
روس نے اپنے نئے خلائی سینٹر ووسٹوچنی کوزموڈروم کی تعمیر کے بعد وہاں سے پہلا راکٹ خلا میں بھیج دیا ہے۔ البتہ راکٹ کی روانگی میں 24 گھنٹے کی تاخیر پر روس کے صدر ولادی میر پوتن نے برہمی کا اظہار کیا۔
خلائی راکٹ سویوز کے خلا میں بھیجے جانے کا منظر دیکھنے کے لیے روسی صدر خصوصی طور پر ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ملک کے مشرقی حصے میں پہنچے تھے۔
ووسٹوچنی کوزموڈروم کی تعمیر کا مقصد قازقستان میں واقع بائیکونور خلائی مرکز پر انحصار کم کرنا ہے۔
اس بلاخلاباز راکٹ کے ذریعے تین مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے گئے ہیں۔ خلائی راکٹ ماسکو کے مقامی وقت کے مطابق 05:01 پر زمین سے روانہ ہوا۔
رواں ہفتے بدھ کے روز اڑان کی پہلی کوشش کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث روانگی سے محض دو منٹ قبل راکٹ کو خلا میں بھیجنے سے روک دیا گیا تھا۔
صدر پوتن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تاخیر کا تعلق چین کی سرحد کے نزدیک امُر کے علاقے میں واقع کوزموڈروم سینٹر سے نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ خود راکٹ تھا۔

،تصویر کا ذریعہ
بائیکونور قزاقستان میں واقع ہے جو سابق سوویت یونین کا حصہ تھا۔ صدر پوتن چاہتے تھے کہ خود روس میں ایک خلائی مرکز تعمیر کیا جائے تاکہ سابق سوویت ریاست کی تنصیبات استعمال کرنے کے سیاسی مضمرات سے بچا جا سکے۔
تاہم روس کے انتہائی مشرقی علاقے میں تعمیر کی جانے والی یہ وسیع تنصیبات تاخیر کا شکار رہی ہیں جبکہ انھیں بدعنوانی کے الزامات کا بھی سامنا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سلسلے میں چار افراد کی گرفتاری پہلے ہی عمل میں لائی جا چکی ہے۔
دوسری جانب صدر پہلے ہی تنبیہ کر چکے ہیں کہ ’اگر ان پر جرم ثابت ہو گیا تو انھیں اپنے گھر کے گرم بستروں کی بجائے جیل کے تختوں پر سونا پڑے گا۔‘



















