’میچ پچاس کا، اننگز پچیس کی‘

انڈین کرکٹ ٹیم کے بلے باز سچن تندولکر نے تجویز دی ہے کہ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچوں کی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے میچ کی ایک اننگز کے پچاس اورز کو پچیس پچیس اورز کی دو اننگز میں تقسیم کر دیا جائے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی وجہ سے طویل دورانیے کے کرکٹ کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اور انگلینڈ میں سنہ دو ہزار دس کے بعد سے ڈومیسٹک کرکٹ میں پچاس اورز کے ایک روز میچ شامل نہیں ہیں۔
بھارت کے ممتاز بلے باز سچن تندولکر کے مطابق ’ آج کل ایک روزہ میچوں میں ٹاس کے بعد تقریباً پچہتر فیصد تک بتایا جا سکتا ہے کہ میچ کا نتیجہ کیا رہے گا۔‘ لیکن میچ اننگز کو پچیس پچیس اورز تک محدود کرنے سے ٹاس کی اہمیت کم ہو جائے گی۔‘
خیال رہے کہ سچن تندولکر ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں سب سے زیادہ سکور سولہ ہزار آٹھ سو چوراسی رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں جس کی وجہ سے ان کی اس تجویز کی اہمیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک روزہ میچ کی ایک اننگز کے اورز کو محدود کرنے کا خیال انہیں دو ہزار دو میں سری لنکا میں کھیلی جانے والی چیمپئنز ٹرافی کے دوران اس وقت آیا جب ٹرافی کے فائنل میچ میں بارش کی وجہ سے سری لنکا اور ہندوستان کو مشترکہ طور پر فاتح قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس فائنل میں سری لنکا نے پہلے پچاس اورز کھیلے لیکن ہماری ٹیم بارش کی وجہ سے صرف دو اورز ہی کھیل سکی۔ اس کے بعد فائنل کے متبادل دن سری لنکا نے دوبارہ پچاس اروز کھیلے اور ان کی ٹیم صرف آٹھ اورز ہی کھیل سکی کیونکہ بارش کی وجہ سے کھیل رک گیا اور بعد میں دونوں ٹیموں کو مشترکہ طور پر فاتح قرار دیا گیا۔
سچن تندولکر کے مطابق فائنل میں مجموعی طور پر ایک سو دس اورز کھیلے گئے لیکن نتیجہ کوئی بھی نہیں نکلا ۔ اس فائنل کے بعد انہوں نے سوچا کہ پچاس اورز کی ایک اننگ کو پچیس پچیس اورز کی دو اننگز میں بدل دیا جائے اور اس کے بعد دونوں ٹیمیں دوبارہ سے پچیس پچیس اورز کی اننگز کھیلیں۔
واضع رہے کہ گزشتہ ماہ انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ نے ڈومسیٹک ایک روزہ میچوں کی پچاس اورز کی ایک اننگز کو چالیس تک محدود کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی پچاس اورز کے ایک روزہ میچوں کی مقبولیت متاثر ہونے کے خدشہ کے پیش نظر دو ہزار گیارہ کے ورلڈ کپ کے بعد اس کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔















