’میرا تمغہ بھی واپس کرائیں‘

سیمنیہ کیسٹر
،تصویر کا کیپشنبین الاقوامی ایمچیور اتھلیٹکس فیڈریشن نے سیمنیا کے جنس کی جانچ کرانے کا حکم دیا تھا
وقت اشاعت

جنوبی افریقہ کی اتھلیٹ کیسٹر سیمنیا سے ان کا تمغہ واپس نہیں لیے جانے کی خبر کے بعد بھارت کی اتھلیٹ شانتی سوندراجن کے لیے امید کی کرن دکھائی دی ہے۔

پچھلے مہینے جرمنی کے شہر برلن میں ہونے والے عالمی اتھلیٹکس چیمپئینشپ ميں سیمنیا نے خواتین کی آٹھ سو میٹر کے دوڑ میں سونے کا تغمہ حاصل کیا تھا لیکن اس جیت کے بعد ان کے خاتون ہونے پر سوال اٹھایا گیا تھا اور بین الاقوامی ایمچیور اتھلیٹکس فیڈریشن (آئی اے اے ایف) نے اس کے لیے ان کے جنس کی جانچ کرانے کا حکم دے دیا تھا۔

ابھی اس جانچ کی رپورٹ نہیں آئی ہے لیکن بی بی سی سپورٹس کی معلومات کے مطابق رپورٹ چاہے جو بھی کہے ان سے سیمنیا کا تمغہ چھینا نہيں جائے گا۔

اسی قسم کا ایک واقعہ سنہ دو ہزار چھ میں دوہا ایشائی کھیلوں کے دوران بھارتی اتھلیٹ شانتی نے آٹھ سو میٹر کی دوڑ میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا لیکن ان کے خاتون ہونے پر سوال اٹھایا گیا جس کے بعد ان سے یہ تمغہ چھین لیا گیا تھا۔

شانتی سوندراجن
،تصویر کا کیپشنشانتی اپنی انامی رقم سے ایک سپورٹس اکیڈمی چلاتی ہیں

اب جنوبی افریقہ کی اتھلیٹ سے ان کا تمغہ نہ چھینے جانے کی خبر کے بعد سوندراجن کا کہنا ہے کہ جب ان کا تمغہ واپس مل سکتا ہے تو سوندراجن کا کیوں نہیں۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے شانتی سوندراجن نے کہا ’مجھے اس لیے موقع نہیں ملا کیونکہ میں ایک تمل ہوں لیکن اگر مجھے موقع دیا جاتا تو میں اولمپکس میں سونے کا تمغہ حاصل کر سکتی تھی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ خراب اقتصادی حالات کے سبب وہ اپنی لڑائی تنہا نہیں لڑ سکتی ہیں۔

اس وقت شانتی اپنی انامی رقم سے ایک سپورٹس اکیڈمی چلاتی ہیں اور اپنے آبائی گاؤں پڈوکوٹائی میں وہ چالیس کھلاڑیوں کو تربیت دے رہی ہیں۔