دانستہ شکست کا الزام، کپتان کی طلبی

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
قومی اسمبلی کی کھیلوں سے متعلق قائمہ کمیٹی نے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم پر مبینہ طور جان بوجھ کر میچ ہارنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد کپتان یونس خان، کوچ انتخاب عالم اور منیجر یاور سعید کو تیرہ اکتوبر کو طلب کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی ٹیم کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے گروپ میچ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس نتیجے نے بھارت کو ایونٹ سے باہر کردیا تھا۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جمشید خان دستی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم یہ حقیقت جاننا چاہتی ہے کہ پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کےخلاف میچ کیسے ہاری؟ واضح رہے کہ جمشید دستی نے پاکستانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹیم پر براہ راست میچ ہارنے کا الزام عائد کیا تھا لیکن بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ ایسا کہہ رہے ہیں اور قائمہ کمیٹی ان الزامات کی روشنی میں ٹیم کے کپتان اور منیجمنٹ سے وضاحت چاہتی ہے۔
جمشید دستی نے کہا کہ وہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں دے رہے ہیں جب ٹیم کے کپتان اور کوچ کمیٹی کے سامنے پیش ہونگے تو ان کی وضاحت کی روشنی میں ہی کسی نتیجے پر پہنچا جاسکے گا لیکن قوم اس بات پر حیران ہے کہ آسٹریلیا سے ٹیم کیسے ہاری۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے پاکستان کرکٹ بورڈ میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اعجاز بٹ کو چیئرمین کا عہدہ فوراً چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ وہ عمر کے اس حصے میں ہیں کہ اس ذمہ داری کو نہیں نبھاسکتے۔
دوسری جانب بھارتی ذرائع ابلاغ نے اپنی ٹیم کی شکست سے زیادہ پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کوغیرمعمولی اہمیت دی ہے ۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے منگل کے روز یہ خبر شہ سرخی کے ساتھ دی کہ نیوزی لینڈ کے خلاف شکست اور مبینہ طور پر میچ فکسنگ کے الزامات کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے کپتان یونس خان اور کوچ انتخاب عالم کو برطرف کردیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس خبر کی تردید کی ہے۔
بھارتی اخبار احمد آباد مرر نے بھی یہ خبر دی تھی کہ آئی سی سی کا انٹی کرپشن یونٹ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے میچ پر نظر رکھے ہوئے ہے جو بقول اخبار کے مشکوک تھا تاہم اگلے ہی روز اخبار کو وضاحت کرنی پڑی کہ انٹی کرپشن یونٹ کی نظر صرف پاکستان نیوزی لینڈ میچ پر نہیں ہے اور وہ اپنی پالیسی کے تحت تمام میچوں کا بغور جائزہ لیتا ہے۔















