do no take this

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
یونس خان نے پاکستانی کرکٹ ٹیم پر میچ فکسنگ کے الزامات لگائے جانے پر احتجاجاً کپتانی سے استعفی دے دیا ہے۔
یونس خان نے پہلی مرتبہ یہ استعفی قومی اسمبلی کی اسپورٹس سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کو پیش کیا جسے انہوں نے منظور کرنے سے انکار کر دیا تاہم اجلاس ختم ہونے کے بعد یونس خان نے دوبارہ استعفی اعجاز بٹ کے حوالے کر دیا۔
یونس خان منگل کو قومی اسمبلی کی سپورٹس سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش ہوئے اور اس دوران انہوں نے پاکستانی ٹیم پر میچ فکسنگ کے مبینہ الزامات عائد کیے جانے پر سخت برہمی ظاہر کی اور کہا کہ ’ان حالات میں کوئی بھی کرکٹر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت نہیں کر سکتا‘ لہذا وہ اپنا استعفی پیش کررہے ہیں۔ تاہم اس موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے یہ استعفی منظور کرنے سے انکار کردیا۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی سپورٹس سے متعلق قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جمشید دستی نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کو دیئے گئے انٹرویوز میں چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان اور آسٹریلیا کے میچ کے بارے میں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم بھارت کو ایونٹ سے باہر کرنے کے لیے مبینہ طور پر جان بوجھ کر آسٹریلیا سے ہاری تھی۔
قائمہ کمیٹی نے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی سیمی فائنل میں شکست کے بعد کپتان کوچ منیجر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو تیرہ اکتوبر کو طلب بھی کیا تھا۔ تاہم منگل کو ہونے والی سماعت میں کمیٹی نے پاکستانی ٹیم کو میچ فکسنگ کے مبینہ الزامات سے کلیئر کر دیا ہے۔
ان اطلاعات پر کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے ختم ہونے کے بعد یونس خان نے دوبارہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو استعفی پیش کر دیا ہے بی بی سی نے کرکٹ بورڈ کے سربراہ اعجاز بٹ سے رابطہ کیا جن کا کہنا تھا کہ ایک بات سرعام ہوئی ہے جس پر وہ یونس خان سے بات کریں گے اور اس کے بعد ہی وہ اس پر کوئی بات حتمی طور پر کہہ سکیں گے۔
اعجاز بٹ نے کہا کہ کمیٹی کے اجلاس میں میچ فکسنگ سے متعلق کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔یہ اجلاس خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ قائمہ کمیٹی کو اس بات کا حق ہے کہ وہ ان سے سوال جواب کرے اس نے جو بھی پوچھا اس کا جواب دیا گیا ہے۔
یونس خان کے استعفے کے بارے میں جب پاکستانی ٹیم کے منیجر یاور سعید سے رابطہ کیا گیا جو اس میٹنگ میں تھے تو انہوں نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ یہ یونس خان اور چیئرمین کا معاملہ ہے وہی جانیں۔















