یونس خان احتجاجاً مستعفی ہوگئے

یونس خان
،تصویر کا کیپشنقائمہ کمیٹی کے چیرمین جمشید دستی نے چیمپینز ٹرافی میں پاکستان اور آسٹریلیا کے میچ کے بارے میں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم بھارت کو ایونٹ سے باہر کرنے کے لئے مبینہ طور پر جان بوجھ کر آسٹریلیا سے ہاری تھی۔
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان نے ٹیم پر میچ فکسنگ کے الزامات لگائے جانے پر احتجاجاً کپتانی سے استعفی دے دیا ہے۔

یونس خان نے پہلی مرتبہ یہ استعفیٰ قومی اسمبلی کی سپورٹس سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کو پیش کیا۔ چیئرمین نے یہ استعفیٰ منظور کرنے سے انکار کردیا تاہم اجلاس ختم ہونے کے بعد یونس خان نے دوبارہ استعفیٰ اعجاز بٹ کے حوالے کر دیا۔

یونس خان نے منگل کے روز قومی اسمبلی کی سپورٹس سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران پاکستانی ٹیم پر میچ فکسنگ کے مبینہ الزامات عائد کیے جانے پر سخت برہمی ظاہر کی اور کہا کہ ان حالات میں کوئی بھی کرکٹر پاکستانی ٹیم کی قیادت نہیں کرسکتا لہذا وہ اپنا استعفی پیش کررہے ہیں۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے یہ استعفیٰ منظور کرنے سے انکار کردیا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی سپورٹس سے متعلق قائمہ کمیٹی نے چیمپینز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی سیمی فائنل میں شکست کے بعد کپتان، کوچ، منیجر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو طلب کیا تھا۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جمشید دستی نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے انٹرویوز میں چیمپینز ٹرافی میں پاکستان اور آسٹریلیا کے میچ کے بارے میں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم بھارت کو ایونٹ سے باہر کرنے کے لیے مبینہ طور پر جان بوجھ کر آسٹریلیا سے ہاری تھی۔

کمیٹی نے پاکستانی ٹیم کو میچ فکسنگ کے مبینہ الزامات سے کلیئر کردیا ہے۔

ان اطلاعات کے بعد کہ قائمہ کمیٹی کا اجلاس ختم ہونے کے بعد یونس خان نے دوبارہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین کو استعفی پیش کردیا بی بی سی نے اعجازبٹ سے رابطہ کیا جن کا کہنا تھا کہ ’ایک بات سرعام ہوئی ہے جس پر وہ یونس خان سے بات کریں گے اور اس کے بعد ہی وہ اس پر کوئی بات حتمی طور پر کہہ سکیں گے‘۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ کمیٹی کے اجلاس میں میچ فکسنگ سے متعلق کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔یہ اجلاس خوشگوار ماحول میں ہوا۔انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو اس بات کا حق ہے کہ وہ ان سے سوال جواب کرے اس نے جو بھی پوچھا اس کا جواب دیا گیا ہے۔

یونس خان کے استعفے کے بارے میں جب پاکستانی ٹیم کے سابق منیجر یاور سعید سے رابطہ کیا گیا جو اس میٹنگ میں تھے تو انہوں نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ یہ یونس خان اور چیئرمین کا معاملہ ہے وہی جانیں۔