کپتان کو بھی رنز بنانے ہوں گے: قاسم

چیف سلیکٹر اقبال قاسم
،تصویر کا کیپشن’گزشتہ دنوں جس صورت حال کا سامنا یونس خان کو کرنا پڑا تھا اس کا اثر ان کی بیٹنگ پر بھی پڑا‘
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

چیف سلیکٹر اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ یونس خان کو آف دی فیلڈ دباؤ ختم ہوجانے کے بعد اب بیٹنگ پر توجہ دینی چاہیے۔

واضح رہے کہ اس سال کھیلی گئی سولہ ون ڈے اننگز میں یونس خان صرف دو نصف سنچریاں سکور کر پائے ہیں جب کہ سات ٹیسٹ اننگز میں انہوں نے ایک ٹرپل سنچری اور ایک نصف سنچری سکور کی ہے۔

اقبال قاسم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں جس صورت حال کا سامنا یونس خان کو کرنا پڑا تھا اس کا اثر ان کی بیٹنگ پر بھی پڑا تاہم ان کے خیال میں اب یہ صورتحال ختم ہوچکی ہے اور کپتانی پر دوبارہ اعتماد کیے جانے کے بعد اب یونس خان کو بیٹنگ میں نمایاں کارکردگی پیش کرنی ہوگی۔ وہ جس پائے کے بیٹسمین ہیں انہیں امید ہے کہ وہ ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلتے دکھائی دیں گے۔

اقبال قاسم نے کہا کہ انفرادی کارکردگی کی بڑی اہمیت ہوتی ہے کیونکہ آپ کپتان کتنے ہی اچھے ہوں لیکن اگر آپ کی اپنی کارکردگی اچھی نہیں تو پھر ٹیم کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونس خان ہوں یا کوئی بھی دوسرا کرکٹر سلیکشن کمیٹی ایک حد تک ہی اس کی حمایت کرسکتی ہے لیکن اس حد سے آگے نہیں کہ اس کا اثر ٹیم کی کارکردگی پر پڑنا شروع ہوجائے۔

اقبال قاسم نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کو رانا نوید الحسن اور عبدالرزاق کے ورلڈ کپ دو ہزار گیارہ کھیلنے کے سلسلے میں تحفظات ہیں اس کی وجہ ان دونوں کی عمر اور کارکردگی ہے، اسی بنا پر یاسر عرفات کو مستقبل کے لیے تیار کیا جارہا ہے جب کہ سہیل تنویر کو بھی دوبارہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں لایا گیا ہے تاکہ وہ فارم میں آ کر آنے والے دنوں کے لیے خود کو تیار کر سکیں۔ مقصد یہ ہے کہ اگر دوسال بعد عبدالرزاق اور رانا نوید الحسن ٹیم میں شامل نہ ہونے کی پوزیشن میں ہوئے تو ان کا خلا یاسر عرفات اور سہیل تنویر سے پورا کیا جا سکے۔

یونس خان
،تصویر کا کیپشن’اب یونس خان کو بیٹنگ میں نمایاں کارکردگی پیش کرنی ہوگی‘۔

چیف سلیکٹر نے کہا کہ ماضی میں نان ریگولر اوپنرز کے جو تجربے کیے گئے سلیکشن کمیٹی ان سے مطمئن نہیں ہے لہذا آئندہ ریگولر اوپنرز کے ساتھ کھیلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اسی خیال کے تحت خالد لطیف۔ سلمان بٹ۔ عمران فرحت اور خرم منظور کا سلیکشن کیا گیا ہے ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ انہیں اپنی صلاحیت دکھانے کا مناسب موقع دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کپتان یونس خان سے بھی بات ہوئی ہے کہ بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی نہ ہو اور ریگولر اوپنرز کے ساتھ اننگز شروع کی جائے۔

اقبال قاسم نے عمرگل کی فٹنس سے متعلق شکوک وشبہات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ فٹ ہیں اور وہ قائداعظم ٹرافی بھی کھیل رہے ہیں۔

چیف سلیکٹر نے مصباح الحق کے بارے میں کہا کہ وہ کچھ عرصے سے دباؤ میں تھے اب انہیں قائداعظم ٹرافی کھیل کر اپنا اعتماد بحال کرنے کا موقع ملا ہے اور آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے ان کے سلیکشن پر ضرور غور ہوگا۔