ہاکی میں بھی ائمپائر ریفرل سسٹم

ایک ٹیم صرف ایک میچ ایک فیصلے کو چیلنج کر سکے گی
،تصویر کا کیپشنایک ٹیم صرف ایک میچ ایک فیصلے کو چیلنج کر سکے گی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے اٹھائیس نومبر سے پانچ دسمبر تک میلبرن میں ہونے والی مینز چیمپئنز ٹرافی میں کرکٹ کی طرز پر ریفرل سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جسے وڈیو ائمپائر سسٹم کا نام دیا گیا ہے۔

اس ریفرل سسٹم کے تحت ائمپائرز کو اگر کوئی فیصلہ کرنے میں مشکل پیش آئی یا وہ کسی فیصلے سے مطمئن نہ ہوئے تو اسے وڈیو امپائر کو منتقل کرسکیں گے۔

چیمپئنز ٹرافی میں تجرباتی طور پر آزمائے جانے والے اس ریفرل سسٹم کے تحت ہر ٹیم کو میچ میں ایک فیصلہ چیلنج کرنے کی اجازت بھی ہوگی جس میں ستر منٹ کا میچ۔ فاضل وقت اور پنالٹی اسٹروکس شامل ہونگے۔

اگر کوئی ٹیم کسی فیصلے کو چیلنج کرتی ہے اور وہ اس کے حق میں ہوتا ہے تو اسے ایک اور ریفرل کی اجازت ہوگی۔

اگر کسی کھلاڑی کو ائمپائر کارڈ دکھاتا ہے تو وہ ریفرل کے زمرے میں نہیں آئے گا یعنی اسے چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔

اس قانون کے تحت صرف کپتان کو کسی بھی فیصلے پر فوری طور پر ائمپائر سے رجوع کرنا ہوگا تاکہ وہ وڈیو ائمپائر کو منتقل کیا جاسکے۔

انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی کمپٹیشن کمیٹی کے چیئرمین کین ریڈ کا کہنا ہےکہ اس وڈیو ائمپائر طریقہ کار سے ائمپائرز کی غلطیوں کو کم سے کم کرنے میں مدد ملے گی اور چیمپئنز ٹرافی کے بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ اگر ہوسکے تو اسے ورلڈ کپ میں بھی متعارف کرایا جاسکے۔