کبھی دباؤ محسوس نہیں کیا: عمر اکمل

’ٹیم کے سینیئر کھلاڑیوں نے انہیں بھرپور حوصلہ دیا تھا‘
،تصویر کا کیپشن’ٹیم کے سینیئر کھلاڑیوں نے انہیں بھرپور حوصلہ دیا تھا‘
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

نوجوان عمراکمل کو پہلی خوشی تو اس وقت ملی تھی جب انہیں بتایا گیا کہ انہیں ٹیسٹ کیپ دی جارہی ہے اور یہ خوشی اس وقت دوبالا ہوگئی جب انہوں نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں سنچری سکور کر ڈالی۔

وہ اپنے اولین ٹیسٹ میں سنچری بنانے والے پاکستان کے گیارہویں بیٹسمین ہیں تاہم فواد عالم کے بعد وہ دوسرے بیٹسمین ہیں جنہوں نے ملک سے باہر پہلے ٹیسٹ میں سنچری بنائی ہے۔

عمر اکمل نے ڈنیڈن سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ’اپنی پہلی ٹیسٹ اننگز میں میں کسی بھی موقع پر نروس نہیں ہوا تھاحالانکہ پانچ وکٹیں صرف پچاسی رنز پر گرچکی تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے پہلے بھی کبھی خود پر دباؤ محسوس نہیں کیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ٹیم کے سینیئر کھلاڑیوں نے انہیں بھرپور حوصلہ دیا تھا اور کوچ انتخاب عالم نے ہدایت کی تھی کہ سیدھے بلے سے کھیلو گے تو سٹروکس خود ملیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ کامی بھائی (کامران اکمل) نے ان کی ہمت بندھائی رکھی اور ہم دونوں بھائی ٹیم کی پوزیشن بہتر بنانے میں کامیاب رہے۔

عمر اکمل کو کامران اکمل کے سنچری کیے بغیر بیاسی رنز پر آؤٹ ہونے کا بہت افسوس ہے۔

عمر اکمل کا بین الاقوامی کرکٹ میں یہ پہلا ہی سال ہے۔ وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں بناچکے ہیں۔ انہوں نے اپنے تیسرے ہی ون ڈے میں سنچری سری لنکا کے خلاف سکور کی تھی۔

ٹوئنٹی ٹوئنی میں عمر اکمل ایک نصف سنچری بناچکے ہیں اور اب ٹیسٹ کرکٹ میں بھی شاندار آغاز سے وہ یہ ثابت کرچکے ہیں کہ وہ ہر فارمیٹ کے لیے نہ صرف موزوں ہیں بلکہ پاکستانی بیٹنگ کا مستقبل بھی انہی کے ہاتھوں میں ہے۔