’ آئی پی ایل میں شرکت مشکوک‘

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی کرکٹروں کو کلیئرنس ملنے کے باوجود انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) میں ان کی شرکت اب ااس بات پر منحصر ہو گی کہ وہ دوسرے غیرملکی کرکٹروں سے کیے گئے معاہدے ختم کر کے پاکستانی کرکٹروں کو اپنی ٹیموں میں شامل کرتی ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے چار پاکستانی کرکٹروں سہیل تنویر، عمرگل، کامران اکمل اور مصباح الحق کو آئی پی ایل کھیلنے کے لیے کلیئرنس دے دی ہے۔
لیکن آئی پی ایل کے کمشنر للیت مودی کا کہنا ہے ’چونکہ آئی پی ایل کی فرنچائز نے پاکستانی کرکٹروں کے لیے دی گئی سات دسمبر کی ڈیڈلائن گزرجانے کے بعد دوسرے کرکٹروں سے معاہدوں کو حتمی شکل دے دی ہے لہذا اب یہ انہی پر منحصر ہے کہ وہ پاکستانی کرکٹروں کو اپنی ٹیموں میں شامل کرنے کے لیے دوسرے کرکٹروں سے کیے گئے معاہدے ختم کریں۔‘
مصباح الحق بنگلور رائل چیلنجرز، عمرگل کولکتہ نائٹ رائیڈرز جبکہ سہیل تنویر اور کامران اکمل کے راجستھان رائلز سے معاہدے فی الحال معطل ہیں۔
للیت مودی کا کہنا ہے کہ دیگر پاکستانی کرکٹروں کی آئی پی ایل میں شرکت نیلامی کے ذریعے ممکن ہوسکےگی جو انیس جنوری کو ہوگی اور اس کے لئے خواہشمند کھلاڑی اکتیس دسمبر تک کسی ایجنٹ کے بغیر ان سے براہ راست رابطہ کریں۔
پاکستان کے گیارہ کھلاڑیوں نے آئی پی ایل کے پہلے ٹورنامنٹ میں حصہ لیا تھا لیکن ممبئی میں دہشت گردی کے سبب پاکستانی حکومت نے کسی بھی پاکستانی کرکٹر کو آئی پی ایل کھیلنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
آئی پی ایل کے تیسرے ٹورنامنٹ میں پاکستانی کرکٹروں کی شرکت کا معاملہ کافی دنوں سے بے یقینی کا شکار ہے۔
پاکستان کی تین مختلف وزارتوں سے این او سی ملنے کے باوجود بھارتی حکومت نے پاکستانی کرکٹروں کو درکار کلیئرنس میں کئی روز لگا دیئے اس دوران آئی پی ایل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام اس صورتحال کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہراتے رہے ہیں۔















