کولکتہ: انڈیا آسانی سے جیت گیا

بھارت اور سری لنکا کے درمیان کولکتہ میں کھیلے جانے والے چوتھے ایک روزہ میچ میں انڈیا نے سری لنکا کو سات وکٹوں سے ہرا دیا ہے۔
سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 315 رنز بنائے۔ انڈیا نے یہ ہدف آسانی کے ساتھ تین وکٹوں کے نقصان پر میچ کے انتالیسویں اوور کی پہلی گیند پر حاصل کر لیا۔انڈیا کی اننگز کی خاص بات گوتم گھمبیر کے 150 رنز تھے جو انہوں نے 137 گیندوں پر چودہ چوکوں کی مدد سے بنائے۔ وہ آؤٹ نہیں ہوئے۔ ان کے ساتھ ناٹ آؤٹ کھلاڑی کارتک تھے جنہوں نے 19 رنز بنائے۔
انڈیا کی طرف سے کوہلی نے گیارہ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 107 رنز بنائے۔ انہیں رندیو نے آؤٹ کیا۔ ان کے علاوہ آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں سہواگ اور تندولکر شامل ہیں جنہوں نے بالاترتیب دس اور آٹھ رنز بنائے۔ ان دونوں کو لکمل نے آؤٹ کیا۔
سری لنکا نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے چھ وکٹ کے نقصان پر تین سو پندرہ رن بنائے ہیں اور جیت کے لیے بھارت کو تین سو سولہ رنوں کا ہدف دیا۔
سری لنکا کی طرف سے بلے بازی کی شروعات تلک رتنے دلشان اور اپل ترنگانے کی۔ اس میچ میں دلشان تو نہیں چلے اور صرف نو رن بنا کر ہی آؤٹ ہوگئے۔
<link type="page"><caption> تازہ سکور جاننے کے لیے یہاں کلک کریں</caption><url href="http://news.bbc.co.uk/sport1/shared/fds/hi/statistics/cricket/scorecards/2009/12/84176/html/scorecard.stm" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> چوتھے ایک روزہ میچ کی تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2009/12/091224_lanka_india_pics_as.shtml" platform="highweb"/></link>
لیکن اپل تھرنگا نے چودہ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے ایک سو اٹھارہ رنز سکور کیے۔ انہوں نے ایک سو اٹھائس بالوں کا سامنا کیا۔
کپتان سنگکارا نے بھی ان کا اچھا ساتھ دیا اور انہوں نے بھی پانچ چوکوں کی مدد سے بہتر بالوں میں ساٹھ رن بنائے۔
لیکن ان سے پہلے آئے سنتھ جے سوریہ ایک بار پھر ناکام رہے اور پندرہ رنز بنا کر ظہیر خان کا شکار ہوگئے۔ لیکن تھسّرا پریرا نے دھوان دار بلے بازی کی اور محض چودہ بالوں میں اکتیس رنز بنائے۔ انہوں نے چار چوکے اور ایک چھکا لگایا۔
مہیلا جے وردنے تیس بالوں میں تینتیس رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے لیکن بعد میں کادمبی اور سمر ویرا نے مل کر سکور تین سو پندرہ تک پہنچا دیا جو ایڈن گارڈن پر اب تک کا سب سے بڑا سکور ہے۔
ظہیر خان نے دس اوور میں انچاس رن دیکر دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ نہرا نے آٹھ اوور میں ساٹھ رن دیکر دو وکٹیں لیں۔
مہندر سنگھ دھونی پر پابندی کے سبب اس میچ کی بھی کپتانی کی ذمہ داری وریندر سہواگ پر ہے۔ جبکہ سری لنکا کی ٹیم کے کپتان سنگاکارا رہیں گے۔ اس سیریز میں بھارت نے اب تک دو میچ جیتے ہیں جبکہ سری لنکا کو ایک میں کامیابی ملی ہے۔
اس طرح سری لنکا کے لیے اس میچ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اگر بھارت اس میں کامیاب ہوا تو سیریز اس کے ہاتھ میں ہوگی لیکن اگر سری لنکا برابری کر لیتا ہے تو پھر آخری میچ فیصلہ کن ہوگا جس میں شائقین کی دلچسپی بڑھ جائیگی۔
اس سے قبل بھارتی ٹیم ٹیسٹ سریز جیتنے میں کامیاب ہوگئی تھی جبکہ ٹونٹی ٹونٹی کی سیریز ایک ایک میچ سے برابر رہی تھی۔
کولکتہ کا ایڈن گارڈن گراؤنڈ ہندوستان کے اچھے میدانوں میں سے ایک ہے جہاں ایک لاکھ سے زائد شائیقین کرکٹ میچ دیکھ سکتے ہیں۔
لیکن اس وقت سٹیڈیم کی مرمت کا کام جاری ہے اس لیے اس میں نصف سے کم ہی لوگ میچ دیکھ سکیں گے۔
ایڈن گارڈن کی انتظامیہ کے مطابق دوہزار گیارہ کے ورلڈ کے لیے اسے خاص طور پر تیار کیا جارہا ہے لیکن اس میچ کے سبب کام روک دیا گیا ہے۔















