جیتنے کا سنہری موقع ہے: انتخاب

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ ہفتے سے میلبرن میں شروع ہو رہا ہے۔
پاکستانی ٹیم کے کوچ انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ جیتنے کا اس سے اچھا موقع اور کوئی نہیں ہوسکتا۔اگر بیٹسمینوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تو بولرز میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ آسٹریلوی ٹیم کو دو بار آؤٹ کرسکتے ہیں۔
انتخاب عالم کا یہ بھی کہنا ہےکہ اس مرتبہ میلبرن کی وکٹ ماضی کے مقابلے میں مختلف دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دانش کنیریا انگلی کی تکلیف سے چھٹکارہ پانے میں کامیاب ہوگئے تو ممکن ہے کہ پاکستانی ٹیم دو اسپنرز کے ساتھ میدان میں اترے۔
دانش کنیریا کے دائیں ہاتھ کی انگلی پریکٹس کے دوران زخم ہوگئی تھی اور پہلے ٹیسٹ میں ان کا کھیلنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
فاسٹ بولر عمرگل کی شرکت بھی مشکوک ہے کیونکہ ان کی کمر میں تکلیف ہے۔
آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ کے میچ کھیلنے کے امکانات روشن ہیں جن کی کہنی پر ویسٹ انڈین بولر روچ کی گیند لگی تھی اور وہ کافی دنوں تکلیف میں مبتلا رہے ہیں۔
آسٹریلوی ٹیم نے گزشتہ دنوں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز دو صفر سے جیتی ہے لیکن اسے کرس گیل کی ٹیم کے ہاتھوں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز برابر کرکے آسٹریلیا پہنچی ہے۔
آسٹریلوی ٹیم کی قوت اس کی بیٹنگ میں ہے جبکہ ماضی کے مقابلے میں اس کی بولنگ اتنی مضبوط اور بڑے ناموں والی نہیں ہے لیکن مچل جانسن، ڈگ بولنجر اور پیٹر سڈل اپنے مستقبل سنوارنے کے لیے پرجوش انداز میں کھیل رہے ہیں اور پاکستانی بیٹنگ کی روایتی بے اعتباری کا وہ بھرپور فائدہ اٹھاسکتےہیں۔
گروئن کی تکلیف میں مبتلا سپنر نیتھن ہورٹز کے نہ کھیلنے کی صورت میں نوجوان لیگ سپنر سٹیو سمتھ کو ٹیسٹ کیپ مل سکتی ہے۔
نوجوان عمراکمل کو اس سیریز میں خاص توجہ حاصل ہے جنہوں نے اس سال کے اوائل میں پاکستان اے کے آسٹریلوی دورے میں تین سنچریاں بناکر پاکستانی ٹیم میں جگہ بنائی تھی جس کے بعد سے وہ غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
پاکستانی ٹیم ایک بڑے اسکور کے لیے عمراکمل کے علاوہ محمد یوسف پر انحصار کرے گی کیونکہ مصباح الحق اور شعیب ملک ان دنوں فارم میں نہیں ہیں۔
میلبرن میں پاکستانی ٹیم دو ٹیسٹ میچز جیت چکی ہے اور یہ وہی گراؤنڈ ہے جہاں پاکستان نے1992ء ورلڈ کپ کا فائنل جیتا تھا۔















