’آئی پی ایل اور ٹی ٹوئنٹی ساتھ نہیں‘
بھارت کی ٹیم کو سنہ 2010 کے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں سپر ایٹ مرحلے میں ہی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2009 اور اب سنہ 2010 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مقابلے آئی پی ایل کے چھ ہفتے پر مشتمل سیزن کے اختتام کے فوراً بعد ہی منعقد ہوئے ہیں۔
دھونی نے ٹیم کی افسوس ناک کاکردگی کے لیے براہِ راست انڈین پریمیئر لیگ کو ذمہ دار تو نہیں ٹھہرایا تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئی پی ایل ایک تھکا دینے والا تجربہ ہے اور اگر اس کے فوری بعد ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مقابلے منعقد نہ ہوتے تو یہ سوال ہی نہ اٹھتا کہ بھارتی ٹیم کیوں ہاری۔
مہندر سنگھ دھونی نے کہا کہ ’آئی پی ایل میں آپ دیر رات تک کھیلتے ہیں اور اس کے بعد پارٹی میں جاتے ہیں اور پھر دیر سے واپس لوٹتے ہیں۔ اگر دن بھر سفر کرنا پڑے تو اس سب سے آپ کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ کھلاڑیوں کو سمارٹ بننا ہوگا۔ انہیں اپنے جسم کی قوت کا احترام کرنا ہوگا ورنہ آئی پی ایل ایک تھکانے والا تجربہ ہوسکتا ہے‘۔
دھونی کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ دیکھیں تو گزشتہ تین سالوں میں سریش رینا، روہت شرما اور روندر جڈیجہ جیسے کھلاڑی ٹیم میں آئے ہیں۔ ان سب کھلاڑیوں نے آئی پی ایل میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آئی پی ایل نے نوجوان کھلاڑیوں کو تراشنے کا کام کیا ہے‘۔
خیال رہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم نے 2007 میں منعقدہ پہلا آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ جیتا تھا۔ تاہم گزشتہ برس انگلینڈ میں اور اس برس ویسٹ انڈیز میں بھارتی کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک بھی نہیں پہنچ پائی ہے اور یہ نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے ایک دھچکا ہے بلکہ اس سے ہندوستانی شائقین بھی مایوس ہیں۔















