’بھارت سیمی فائنل کھیلنے کا اہل نہ تھا‘
سابق بھارتی کھلاڑیوں نے شاٹ پچ گیندوں کا مقابلہ کرنے میں ناکامی اور آئی پی ایل کے پست معیار کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مقابلوں سے بھارتی کرکٹ ٹیم کے اخراج کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
بھارتی کرکٹ ٹیم منگل کو سپر ایٹ مرحلے میں اپنے تیسرے میچ میں سری لنکا کے ہاتھوں شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی ہے۔
سنہ 2007 میں یہ مقابلہ جیتنے والی بھارتی ٹیم اس بار سپر ایٹ مرحلے میں ایک بھی میچ جیتنے میں ناکام رہی۔خیال رہے کہ اس وقت بھارت عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں اول اور ون ڈے رینکنگ میں دوسرے نمبر پر ہے۔
بھارت کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان سورو گنگولی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھونی اور ان کی ٹیم سیمی فائنل کھیلنے کے اہل نہیں تھے۔ انہوں نے آئی پی ایل کو بھارتی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کی ایک اہم وجہ قرار دیا۔
گنگولی کا کہنا ہے کہ’ آئی پی ایل ایک مقامی مقابلہ ہے اور اس کا معیار عالمی معیار سے کہیں کم ہے جہاں آپ کا سامنا بہترین بلے بازوں اور بولروں سے ہوتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ ایسی کرکٹ کھیلیں جیسی کہ بھارتی ٹیم نے کریبیئن میں کھیلی تو آپ سیمی فائنل تک رسائی کی توقع نہیں کر سکتے‘۔
سابق بھارتی کپتان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ بھارتی سلیکٹر یوراج سنگھ جیسے اچھی کارکردگی نہ دکھانے والے کھلاڑیوں سے سختی سے پیش آئیں گے۔ گنگولی نے کہا کہ ’یوراج کو اپنے کھیل کو دیکھنا چاہیے۔ اگر وہ طویل عرصے تک اچھی کارکردگی نہیں دکھاتا تو سلیکٹرز کو اسے صرف ان کی شہرت کی بنیاد پر نہیں کھلانا چاہیے‘۔

سابق بھارتی بلے باز سنیل گاوسکر نے ہندوستان ٹائمز میں اپنے کالم میں کہا ہے کہ بھارتی شکست کی وجہ بظاہر شارٹ پچ گیندوں کا سامنا کرنے میں ناکامی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں بھارتی ٹیم کی ناکامی مایوس کن ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وہی بلے باز جو گزشتہ سال انگلینڈ میں شاٹ پچ گیندوں کا سامنا کرنے میں ہچکچاتے نظر آئے انہیں اس برس پھر کریبیئن کی باؤنسی پچوں پر کھیلنے کے لیے منتخب کر لیا گیا‘۔ سنیل گاوسکر نے کہا کہ ’دیگر تمام ٹیموں نے یاد رکھا کہ گزشتہ برس کیا ہوا تھا اور بھارتی ٹیم کے خلاف ان کی حکمتِ عملی اس کی گواہ تھی‘۔
بھارتی کپتان مہندر دھونی نے آئی پی ایل مقابلوں کو شکست کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔ اس بیان پر بھارتی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے سابق بھارتی کپتان اظہرالدین نے کہا ہے کہ آئی پی ایل اور اس کی پارٹیز کی تھکاوٹ کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’کھلاڑیوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کھیل پارٹیز سے زیادہ اہم ہے اور شکست کے بعد ایسے بہانے نہیں بنانے چاہیئیں‘۔
سنہ 1983 میں عالمی کپ جیتنے والی بھارتی ٹیم کے رکن مدن لعل کا کہنا ہے کہ ’کون انہیں ان پارٹیوں میں جانے کو کہتا ہے۔ وہ منع کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں انہیں یہ سب نہیں کہنا چاہیے۔یہ سب بےوقوفانہ بہانے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’سچ تو یہ ہے کہ یہ ورلڈ کپ جیتنے گئے تھے لیکن وہ اس قابل نہیں تھے‘۔















