’کرکٹ بورڈ سزاؤں پر نظرثانی کرے‘

قومی اسمبلی کی سپورٹس سے متعلق سٹینڈنگ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا ہے کہ کرکٹرز کو دی گئی سزاؤں پر نظرثانی کی جائے۔ کمیٹی نے تحقیقاتی کمیٹی کی کارروائی کی وڈیو ریکارڈنگز بھی ضائع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جسٹس ( ریٹائرڈ) عرفان قادر کی سفارشات سامنے آنے کے بعد ان سزاؤں پر نظرثانی کی جائےگی۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی اسپورٹس سے متعلق سٹینڈنگ کمیٹی نے پاکستانی کرکٹ کے متنازعہ معاملات کا جائزہ لینے کے لیے پیر کے روز پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ، چیف آپریٹنگ آفیسر وسیم باری، منیجر یاور سعید، سابق کوچ انتخاب عال،م سابق منیجر عبدالرقیب اور سابق کپتان یونس خان کو طلب کیا تھا۔
کمیٹی کے چیئرمین اقبال محمد علی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ڈسپلن کے معاملات کو صحیح طریقے سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے۔ کرکٹرز کے ساتھ ساتھ ٹیم منیجمنٹ کےخلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ قانون سب کےلیے ایک ہونا چاہئے۔
انہوں نے پی سی بی سے کہا کہ کرکٹرز کو دی گئی سزاؤں پر نظرثانی کی جائے جس پر اعجاز بٹ نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ عرفان قادر کی سفارشات آنے کے بعد ان سزاؤں پر نظرثانی کی جائے گی۔
وسیم باری نے اس موقع پر کہا کہ دورہ آسٹریلیا میں ٹیم انتشار کا شکار تھی کئی پریشر گروپ بنے ہوئے تھے اور محمد یوسف کمزور کپتان ثابت ہوئے۔یونس خان نے کہا کہ انہیں صفائی کا موقع دیئے بغیر پابندی عائد کردی گئی۔انہوں نے کہا کہ وہ انصاف کے طلب گار ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔
واضح رہے کہ یونس خان انگلش کاؤنٹی سرے کی نمائندگی کرنے کے لئے منگل کو لندن روانہ ہو رہے ہیں۔ سرے نے ان سے مختصر مدت کے لیے کھیلنے کا معاہدہ کیا ہے۔















