ایک معذور تیراک کی کہانی

- مصنف, وندنا
- عہدہ, بی بی سی، دلی
- وقت اشاعت
ہندوستان کے نشانے باز، ویٹ لفٹر اور پہلوانوں نے کامن ویلتھ کھیلوں میں اب تک درجنوں تمغے جیتے ہیں لیکن تیراکی میں یہ اعزاز ایک معذور تیراک کو ہی حاصل ہوا ہے۔
پرشانت کرماکر معذور کھلاڑیوں کے زمرے میں پچاس میٹر فری سٹائل مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیتا ہے۔
پرشانت کو اس جیت پر بے حد خوشی ہے۔ان کا کہنا ہے’ یہ میرے لیے نہیں پورے ملک کے لیے ایک خاص لمحہ ہے۔ بھارت تیراکی میں ہمیشہ ہی پیچھے رہا ہے۔ بھگوان کا شکر ہے کہ میں یہ تمغہ جیت پایا۔‘
پرشانت نے بھارت کے لیے میڈل ایک مخصوص کیٹگری میں جیتا ہے لیکن انہیں یہ بات بالکل پسند نہیں کہ لوگ انہیں’معذور‘ کہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس لفظ کا استمعال نہیں ہونا چاہیے، ہر انسان میں کچھ نہ کچھ کمی ہے۔ فرق یہ ہے کہ میری کمی دکھائی دیتی ہے کہ میرا ہاتھ نہیں ہے۔‘
مغربی بنگال کے ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے والے پرشانت کہتے ہیں کہ انہوں نے شوق شوق میں تیراکی شروع کی تھی لیکن بعد میں وہ اس کے میں سنجیدہ ہوگئے اور انہوں نے بنگلور سے ٹرینگ حاصل کی۔
پرشانت کا کہنا ہے کہ ان جیسے تیراک کو بار بار یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ انہوں نے تیراک بن کر کوئی غلطی کر دی لیکن اس سب سے باوجود انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔
ایک غیر سرکاری تنظیم امو ہریانہ سرکاری نے ان کی مدد کی اور اس کے بعد پرشانت نے کئی عالمی ٹورنامنٹ جیتے ہیں۔
پرشانت کا کہنا ہے کہ انہیں اس مقام تک پہنچنے میں پندرہ سال کا وقت لگا اور اب ان کا خواب ہے کہ وہ لندن ميں ہونے والے اولمپکس کھیلوں میں حصہ لیں۔
ان کا کہنا ہے ہندوستان میں ان جیسے کھلاڑیوں کے لیے مزید سہولتیں دی جائیں تا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو پائیں اور بھارت کے لیے مزید تمغے جیتیں۔















