’اوول ون ڈے میچ فکس ہونے کی ثبوت نہیں‘

شرد پوار
،تصویر کا کیپشنآئی سی سی کے صدر شرد پوار نے کہا تھا کہ کرکٹ میں بدعنوانی کو برداشت نہیں کرا جائے گا
وقت اشاعت

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کہا ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لندن کے اوول میدان میں کھیلے جانے والے تیسرے ون ڈے کے فکس ہونے کے پختہ ثبوت نہیں ہیں۔

سترہ ستمبر کو ہونے والے اس میچ کے بارے میں برطانوی اخبار دی سن نے ایک ذرائع کے ذریعے سے بتایا تھا کہ اس میچ کے چند مخصوص مراحل پر ایک مخصوص طریقے سے سکور بنے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ اعجاز بٹ نے اس وقت کہا تھا کہ انہوں نے سنا ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم کو یہ ميچ ہارنے کے لیے پیسے دیئے گئے ہیں۔ بٹ کے اس بیان پر اس وقت تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا جب انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ نے قانونی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ بعد میں اعجاز بٹ نے اپنا بیان بدل کرکہا تھا کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ یا کھلاڑیوں کی نیت پر شک کرنے کا انکا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اس کا اینٹی کرپشن اور سیکورٹی سے متعلق یونٹ اس معاملے کے بارے میں دوبارہ تفتیش تب کرے گا جب اس کے سامنے نئے ثبوت آئيں گے۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری کیےگئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 17 ستمبر کو اوول میں کھیلے جانے والے تیسرے ون میچ کے بارے میں سپاٹ فکسنگ کے جو الزامات تھے اس کی تفتیش کے بعد ہم اس نتیجے میں پہنچے ہیں کہ ان الزامات کی تصدیق کرنے کے لیے یا کسی کھلاڑی یا سپورٹ سٹاف پر شک کرنے کے لیے کوئی پختہ ثبوت نہیں ملے ہیں۔

اس میچ میں پاکستان نے ایک دلچسپ مقابلے کے بعد انگلینڈ کو تیئیس رنز سے شکست دی تھی۔ پاکستان نے انگلینڈ کو فتح کے لیے دو سو بیالیس رن کا ہدف دیا تھا لیکن انگلینڈ کی پوری ٹیم چھیالیسویں اوور میں دو سو اٹھارہ رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔

برطانوی اخبار کی معلومات کی بنیاد پر آئی سی سی کی جانب سے معاملے کی تفتیش کی گئی تھی۔

انکوائری کا اعلان کرتے وفت آئی سی سی نے کہا تھ کہ ’آئی سی سی کرکٹ میں رشوت ستانی کو کسی صورت میں برداشت نہیں کرے گی اور اگر کوئی کھلاڑی یا آفیشل کسی قسم کے غلط اقدامات کا مرتکب پایا گیا تو اسے ہمارے انسدادِ رشوت ستانی کوڈ کے تحت سخت سے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا تاکہ اس کھیل کی ساکھ برقرار رہ سکے‘۔

آئی سی سی کے صدر شرد پوار نے کہا ہے کہ کھیل اہلکاروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کھلاڑیوں اور شائقین کی نظروں میں کھیل کی شہرت کو خراب کرنے سے بچانے کے لیے جو کچھ کرسکتے ہیں کریں۔

انکا کہنا تھا کہ کرکٹ میں بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

خیال رہے کہ اوول ون ڈے سے متعلق سپاٹ فکسنگ کے الزامات سے قبل پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میچ میں مخصوص مواقع پر نو بال کروائے جانے کا سکینڈل سامنے آیا تھا جس کی تحقیقات سکاٹ لینڈ یارڈ کر رہی ہے۔

آئی سی سی نے لارڈز کے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بعد پاکستان کے تین کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف پر عارضی پابندی بھی عائد کی ہوئی ہے جبکہ ایک اور پاکستانی بالر وہاب ریاض سے بھی سپاٹ فکسنگ کے حوالے سے برطانوی پولیس نے تفتیش کی ہے۔